ایشیا کی قدیم ترین سرجریوں میں سے ایک کے شواہد مل گئے، ازبکستان میں چار ہزار سال پرانے بچے کی کھوپڑی دریافت

ازبکستان میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے چار ہزار سال پرانے ایک بچے کی کھوپڑی دریافت کی ہے، جس پر سرجری کے واضح آثار ملے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ دریافت وسطی ایشیا میں اب تک ملنے والی قدیم ترین جراحی کارروائیوں میں سے ایک ہے اور ایشیا میں سرجری کے قدیم ترین شواہد میں بھی شمار کی جاتی ہے۔

اطالوی اور ازبک ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے یہ باقیات جنوبی ازبکستان کے علاقے شمالی باختریہ (ناردرن بیکٹریا) میں افغانستان کی سرحد کے قریب واقع قدیم مقام ’’جرکوتان‘‘ سے دریافت کیں۔

تحقیق کے مطابق یہ باقیات تقریباً پانچ سال عمر کے ایک بچے کی ہیں۔ ماہرین نے کھوپڑی کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کی نشاندہی کی کہ اس پر ’’ٹریپینیشن‘‘ نامی قدیم جراحی عمل کے آثار موجود ہیں، جس میں کھوپڑی کو کاٹ کر یا سوراخ کر کے علاج کیا جاتا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عمل انسانی تاریخ کی قدیم ترین سرجریوں میں شمار ہوتا ہے۔ ماضی میں یورپ، افریقہ اور ایشیا کی مختلف تہذیبوں میں بھی اس طرح کی سرجریوں کے شواہد مل چکے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ طریقہ سر کی چوٹ، مرگی، شدید دردِ سر یا دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جبکہ بعض معاشروں میں اس کے مذہبی یا روحانی مقاصد بھی ہو سکتے تھے۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق بچے کو ایک اور کم عمر بچے کے ساتھ ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ کھوپڑی پر موجود نشانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرجری کے لیے پتھر یا ہڈی سے بنے اوزار استعمال کیے گئے ہوں گے۔

یہ دریافت قدیم وسطی ایشیا میں طبی علم اور مہارت کے بارے میں بھی اہم سوالات اٹھاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی سرجری انجام دینے کے لیے انسانی جسم کے بارے میں خاص معلومات اور فنی مہارت درکار ہوتی ہے۔

یہ قبر ’’اوکسس تہذیب‘‘ کے اہم شہری مرکز جرکوتان سے ملی ہے۔ اوکسس تہذیب، جسے بیکٹریا-مارجیانا آثارِ قدیمہ کمپلیکس (بی ایم اے سی) بھی کہا جاتا ہے، موجودہ ازبکستان، ترکمانستان اور افغانستان کے بعض علاقوں میں تقریباً 2500 قبل مسیح سے 1500 قبل مسیح کے درمیان پھلی پھولی تھی۔

ماہرین اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سرجری کس مقصد کے لیے کی گئی، اسے انجام دینے والا کون تھا اور اس دور میں طبی علم کس حد تک ترقی یافتہ تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں