‘ہمارے مستقبل کو یرغمال بنایا جا رہا ہے’، بھارت کے سی بی ایس ای امتحانی تنازع نے طلبہ کو مودی حکومت کے خلاف مشتعل کیوں کر دیا؟

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ملک کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای)کے امتحانی نتائج ایک بڑے تنازع کی زد میں آ گئے ہیں، جس کے بعد ہزاروں طلبہ نے نتائج کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے حکومت اور وزارتِ تعلیم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، اترکھنڈ کے شہر دہرادون سے تعلق رکھنے والی طالبہ نندنی سنگھ نے بتایا کہ وہ کئی ہفتوں سے اپنے ہائی اسکول امتحانات کے نتائج کی منتظر تھیں کیونکہ انہی نمبروں کی بنیاد پر انہیں پسندیدہ کالج میں داخلہ ملنا تھا۔ تاہم جب نتائج آئے تو کیمسٹری میں ان کے نمبر توقع سے کہیں کم تھے۔ وہ اس بات پر تذبذب کا شکار رہیں کہ پرچوں کی دوبارہ جانچ کی درخواست دیں یا نتائج قبول کر لیں، لیکن اسی دوران نظرِ ثانی کی درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ گزر گئی۔

نندنی کا کہنا ہے کہ اب انہیں یقین ہو گیا ہے کہ انہیں ان کے حق سے کم نمبر دیے گئے ہیں اور امتحانات لینے والے ادارے پر ان کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ’’یہ لوگ جھوٹے اور بدعنوان ہیں، جو ہمارے مستقبل کو یرغمال بنا رہے ہیں۔‘‘

اس سال تقریباً 1 کروڑ 70 لاکھ طلبہ نے سی بی ایس ای کے امتحانات میں شرکت کی تھی۔ امتحانات 17 فروری سے 10 اپریل تک جاری رہے جبکہ نتائج 13 مئی کو جاری کیے گئے۔ تاہم نتائج کے بعد متعدد انکشافات سامنے آنے سے پورا عمل مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔

تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟
سی بی ایس ای نے اس سال پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر آن اسکرین مارکنگ نظام متعارف کرایا، جس کے تحت طلبہ کے پرچے اسکین کرکے ڈیجیٹل شکل میں چیک کرنے والوں کو فراہم کیے گئے۔

امتحانی بورڈ کا کہنا تھا کہ اس نظام سے پیپر چیکنگ کا عمل تیز اور مؤثر ہوگا، لیکن طلبہ، اساتذہ اور ماہرین نے جلد ہی اس میں کئی خامیوں کی نشاندہی کرنا شروع کر دی۔ شکایات میں دھندلے اسکین، تکنیکی خرابیاں، سرور بند ہونا اور پرچوں کی غلط اپ لوڈنگ شامل ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، مزید تنازع اس وقت پیدا ہوا جب معلوم ہوا کہ بورڈ نے اس نظام کے نفاذ کے لیے ایک نجی کمپنی کو ٹھیکہ دیا تھا جس کا ماضی بھی متنازع رہا ہے۔ یہ کمپنی پہلے بھی ایک ایسے امتحانی اسکینڈل سے منسلک رہی تھی جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔

طلبہ نے خود خامیاں بے نقاب کیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تنازع کو سامنے لانے میں خود طلبہ نے اہم کردار ادا کیا۔

ایک طالب علم ویدانت سریواستو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصاویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سی بی ایس ای نے نظرِ ثانی کے لیے جو اسکین شدہ جوابی پرچہ اسے بھیجا، وہ دراصل اس کا تھا ہی نہیں۔ اس نے اپنے دیگر جوابی پرچوں کی تصاویر بھی شیئر کیں جن سے مختلف لکھائی واضح نظر آ رہی تھی۔

اس کی پوسٹ تیزی سے وائرل ہو گئی اور ہزاروں طلبہ نے بھی اپنے نتائج اور مارکنگ کے حوالے سے شکایات سامنے لانا شروع کر دیں۔

بعد ازاں سی بی ایس ای نے غلطی تسلیم کرتے ہوئے ویدانت کا اصل پرچہ دوبارہ چیکنگ کے لیے بھیجا اور اس کے نتائج میں تبدیلی کی۔

الجزیرہ کے مطابق، اسی دوران رانچی کے ایک 18 سالہ طالب علم سارتھک سدھانت نے تحقیق کے بعد ایک بلاگ میں تفصیلات شائع کیں کہ کس طرح بورڈ نے تکنیکی شرائط میں نرمی کرتے ہوئے متنازع کمپنی کو ٹھیکہ دیا۔

بنگلورو سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ نوجوان نسرگ ادھیکاری نے بھی آن اسکرین مارکنگ پورٹل میں کئی سکیورٹی خامیوں کا انکشاف کیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ بطور امتحانی چیکر سسٹم میں داخل ہو کر نمبروں میں تبدیلی کرنے تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟
انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی پالیسی کے ماہر پرانیش پرکاش نے الجزیرہ کو بتایا کہ اصل مسئلہ نظام کی کمزوری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے ایسے مسائل وقت پر سامنے نہیں آتے۔

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ گزشتہ چند برسوں سے مختلف قومی امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ کا اداروں پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے اور انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

اس امتحانی تنازع نے سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے اور اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

شدید عوامی ردعمل کے بعد حکومت نے منگل کے روز سی بی ایس ای کے چیئرمین اور سیکریٹری کا تبادلہ کر دیا، تاہم اپوزیشن رہنماؤں نے اسے محض ’’پردہ پوشی‘‘ قرار دیا ہے۔

اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندرا پردھان کو برطرف کر کے آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف افسران کے تبادلے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

دوسری جانب اروند کیجریوال نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لاکھوں طلبہ اور والدین کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔

نتائج سے مطمئن نہ ہونے والے متعدد طلبہ کا کہنا ہے کہ نتائج جاری ہونے کے بعد کئی دنوں تک دوبارہ چیکنگ کے لیے سی بی ایس ای کی ویب سائٹ بھی قابلِ رسائی نہیں رہی، جس کے باعث وہ درخواست جمع نہیں کرا سکے۔

اتر پردیش کے شہر رائے بریلی سے تعلق رکھنے والے طالب علم پرتیک سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ہم صرف طالب علم ہیں، ہم اپنے لیے انصاف کیسے حاصل کریں؟‘‘

ان کے مطابق یہ نتائج ان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہوں گے کیونکہ انہی کی بنیاد پر کالج میں داخلہ اور بعد ازاں روزگار کے مواقع کا تعین ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ یہ خدشہ رہے گا کہ شاید ان کے جوابات کو صحیح طریقے سے دیکھا ہی نہیں گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں