بھارتی اداکار رنویر سنگھ نے فلمی تنظیم فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سِنے ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای)کی جانب سے ان پر لگائی گئی ‘نان کوآپریشن’ پابندی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کا فیصلہ شعوری طور پر کیا ہے، اور ان کا مؤقف ہے کہ ایسے معاملات کو ‘وقار، بالغ نظری اور باہمی احترام’ کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے۔
رنویر سنگھ کی جانب سے ان کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں فلم ‘ڈان تھری’ سے ان کے علیحدہ ہونے کے بعد مختلف قیاس آرائیاں اور مختلف بیانیے سامنے آئے ہیں، لیکن انہوں نے اس پر عوامی سطح پر جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ بیان میں کہا گیا کہ رنویر سنگھ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور آئندہ پراجیکٹس پر مکمل توجہ دے رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق رنویر کا کہنا ہے کہ وہ فلم انڈسٹری کے تمام افراد اور خاص طور پر ‘ڈان فرنچائز’ سے وابستہ لوگوں کا ‘انتہائی احترام’ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں خاموشی اور تحمل اختیار کرنا ان کی سوچ کا حصہ ہے اور وہ آئندہ بھی اسی طرزِ عمل کو برقرار رکھیں گے۔
یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب ایف ڈبلیو آئی سی ای نے رنویر سنگھ کے خلاف غیر تعاون کی ہدایت جاری کی۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ رنویر نے متعدد بار طلب کیے جانے کے باوجود ان کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان نہیں کیا۔
فلم ڈان تھری کے ہدایت کار فرحان اختر نے اس سے قبل تنظیم کو شکایت دی تھی کہ رنویر سنگھ نے شوٹنگ شیڈول سے چند ہفتے پہلے ہی فلم چھوڑ دی، جس کے باعث پروڈکشن کو مالی نقصان اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
فلم کی پروڈکشن کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تیاریوں پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے، جن میں ہوٹل بکنگ، لوکیشنز اور بیرونِ ملک سفر کے اخراجات شامل ہیں، جبکہ مجموعی نقصان کا تخمینہ تقریباً 45 کروڑ روپے بتایا جا رہا ہے۔
ایف ڈبلیو آئی سی ای کے عہدیداروں کے مطابق رنویر سنگھ کو متعدد بار پیش ہونے کی دعوت دی گئی، لیکن وہ مختلف مواقع پر اس عمل کا حصہ نہیں بنے، جس کے بعد ان کے خلاف یہ اقدام اٹھایا گیا۔ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی بھی بڑے اداکار کو قانون اور انڈسٹری کے اصولوں سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا۔
واضح رہے کہ رنویر سنگھ نے دسمبر 2025 میں ڈان تھری سے علیحدگی اختیار کی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ مسلسل تنازع کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔