شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب اور برطانیہ کی حکومت کی جانب سے شام کی حمایت کا اعلان کر دیا گیا۔ دونوں ممالک کے سربراہان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ شامی عوام کے ساتھ تعاون کریں۔
یہ بیان سعودی عرب میں برطانوی وزیرِ اعظم کئیر اسٹارمر کے 3 روزہ دورہ سعودی عرب کے اختتام پر مشترکہ پریس کانفرنس میں جار ی کیا گیا۔ دورے کے دوران برطانوی وزیرِ اعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی، اور مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
شام میں تبدیلی کی نئی لہر
شام میں اپوزیشن فورسز نے 54 سالہ “اسد خاندان” کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ شامی باغی گروہ حیاۃ التحریر الشام اور سیرین نیشنل آرمی کے دستوں نے جنگ کا آغاز ، ترکیہ کے بارڈر پر واقع شامی علاقے ادلب کی فتح سے کیا۔ شامی اپوزیشن افواج، ادلب اور حمص جیسے بڑے شہر فتح کرتی ہوئیں، محظ دس دِن میں دارالحکومت دمشق پہنچیں، جہاں شام کی سرکاری افواج نے بغیر کسی مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیے، جبکہ 25 سال شام پر حکومت کرنے والے “بشار الاسد” راتوں رات طیارے پر بیٹھ کر روس جا پہنچے۔
دمشق کی فتح اور حکومت کی منتقلی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دُنیا کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے، جِس کے بعد امریکہ، ترکیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے شام کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔ اب سعودی عرب اور برطانیہ نے بھی شام کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔