سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی انسانی دماغی سرگرمیوں کو سمجھ کر خوابوں اور خیالات کی جزوی تشریح کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت دماغی بیماریوں کے علاج اور انسانی ذہن کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے جدید برین اسکیننگ ٹیکنالوجی اور اے آئی سسٹمز کی مدد سے انسانی دماغ کے مختلف سگنلز کا تجزیہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی بعض تصاویر، آوازوں اور ذہنی تصورات کو شناخت کرنے میں پہلے سے زیادہ کامیاب ہو رہی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم مستقبل میں اس کی مدد سے ایسے افراد کی معاونت ممکن ہو سکتی ہے جو بولنے یا اپنے خیالات ظاہر کرنے سے قاصر ہوں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کے ساتھ پرائیویسی اور انسانی آزادی جیسے اہم سوالات بھی جڑے ہوئے ہیں، اس لیے اس میدان میں محتاط پیش رفت ضروری ہوگی۔
تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت آنے والے برسوں میں انسانی دماغ کے راز سمجھنے میں ایک اہم سائنسی ذریعہ بن سکتی ہے۔