دو نیپالی کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ پر اپنے ہی ریکارڈ توڑ کر نئی تاریخ رقم کر دی

دو نیپالی کوہ پیماؤں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر اپنے ہی ریکارڈ توڑ کر نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔

مشہور کوہ پیما کمی ریتا شیرپا نے ماؤنٹ ایورسٹ کی 32ویں بار کامیاب ہائیکنگ مکمل کر کے اپنا ہی پچھلا عالمی ریکارڈ توڑ دیاہے۔

وہ پہلی بار 1994 میں ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچے تھے اور اس کے بعد تقریباً ہر سال غیر ملکی کوہ پیماؤں کی رہنمائی کرتے ہوئے اس مہم میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ بعض برسوں میں انہوں نے ایک سے زیادہ بار بھی یہ چوٹی سر کی ہے۔

دوسری جانب لھاکپا شیرپا نے خواتین میں اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے 11ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لیا ہے۔ وہ سال 2000 میں پہلی بار ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچی تھیں اور اس کے بعد بھی متعدد بار اس مہم کا حصہ رہ چکی ہیں۔

نیپال کے محکمہ سیاحت کے ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ کامیابیاں ملک کی کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس سے دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو مزید حوصلہ ملتا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ، جس کی بلندی 8 ہزار 849 میٹر ہے، دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ 1953 میں نیوزی لینڈ کے ایڈمنڈ ہلیری اور نیپالی شیرپا ٹینزنگ نورگے نے پہلی بار اس چوٹی کو سر کیا تھا۔

اس کے بعد سے ایورسٹ پر کوہ پیمائی ایک بڑی صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس سال نیپال نے ریکارڈ تعداد میں تقریباً 492 اجازت نامے جاری کیے ہیں۔ اب تک 8 ہزار سے زائد افراد اس چوٹی کو سر کر چکے ہیں، جن میں کئی افراد نے ایک سے زیادہ بار یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

تاہم ماہرین اور حکام بار بار اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ زیادہ تعداد میں کوہ پیماؤں کی موجودگی سے پہاڑ پر رش بڑھ جاتا ہے، جس سے حادثات کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر جب موسم اچانک خراب ہو جائے اور چڑھائی کا وقت محدود ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں