امریکی پراسیکیوٹرز نے بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کے خلاف دھوکہ دہی اور سازش کے فوجداری الزامات واپس لینے کے لیے عدالت سے درخواست کر دی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے پیر کے روز عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اب اس کیس میں فوجداری الزامات کو مزید آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان مقدمات پر مزید وسائل خرچ نہیں کیے جائیں گے۔
گوتم اڈانی، جو اڈانی گروپ کے چیئرمین اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں، پر 2024 میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے بھارت میں ایک بڑے سولر پاور منصوبے کے لیے سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا اور سرکاری ٹھیکوں کے حصول کے لیے مبینہ طور پر بھاری رشوتیں دیں۔
استغاثہ کے مطابق یہ الزامات نیویارک کی وفاقی عدالت میں دائر کیے گئے تھے اور ان میں وائر فراڈ، سیکیورٹیز فراڈ اور سازش جیسے الزامات شامل تھے۔
تاہم اڈانی گروپ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔
عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی محکمہ انصاف نے اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت کیا ہے اور اب اس کیس کو مزید آگے نہیں چلایا جائے گا۔ جج نکولس گاروفس کو اس فیصلے کی منظوری دینا باقی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گوتم اڈانی کے وکلا نے بھی اس درخواست سے اتفاق کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پہلے ہی اڈانی سے متعلق ایک الگ مقدمے میں تصفیے پر رضامند ہو چکا ہے۔
گوتم اڈانی نے 1990 کی دہائی میں کوئلے کے کاروبار سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا، تاہم بعد ازاں ان کے کاروباری گروپ نے قابلِ تجدید توانائی، دفاع اور زرعی شعبے سمیت مختلف صنعتوں میں وسعت حاصل کی۔
اڈانی گروپ کو بھارت کے سب سے بڑے سولر پاور منصوبوں میں سے ایک کا مالک بھی سمجھا جاتا ہے اور کمپنی نے 2030 تک توانائی کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کا ہدف رکھا تھا۔
دوسری جانب ان کے کاروبار پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ امریکی مالیاتی ریسرچ فرم ہندنبرگ ریسرچ نے اڈانی گروپ پر شیئرز کی مبینہ ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ کے الزامات عائد کیے تھے، جنہیں کمپنی نے مسترد کیا تھا۔
الزامات کے سامنے آنے کے بعد کچھ بین الاقوامی منصوبے بھی متاثر ہوئے تھے، تاہم اب امریکی حکام کے اس فیصلے کے بعد یہ کیس عملی طور پر ختم ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔