ازبکستان نے بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور انٹرنیٹ کے ذریعے استحصال سے بچانے کے لیے نئے سخت قوانین نافذ کر دیے ہیں
اسلام آباد میں ازبکستان کے سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اصلاحات 17 اپریل 2026 کو منظور کیے گئے قانون کے تحت متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ازبکستان کے قومی ادارۂ سماجی تحفظ کے مطابق نئے قوانین خاص طور پر انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع کے ذریعے بچوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر بنائے گئے ہیں۔
نئے قانون کے تحت کم عمر بچوں سے متعلق فحش مواد اپنے پاس رکھنا یا اسے پھیلانا جرم قرار دیا گیا ہے
فوجداری قانون میں شامل نئی دفعہ 129 نمبر ایک کے مطابق اس جرم میں ملوث افراد کو جرمانہ، مشقت، نقل و حرکت پر پابندی یا تین سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
حکام کے مطابق بعض معاملات میں ابتدائی مرحلے پر انتظامی کارروائی بھی کی جائے گی تاکہ ایسے جرائم کی بروقت روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
قانون میں بچوں سے متعلق مقدمات کے دوران اضافی حفاظتی اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
اب کم عمر گواہوں کے ساتھ قانونی سرپرست کی موجودگی لازمی ہوگی، جبکہ بچوں سے پوچھ گچھ کا دورانیہ ان کی عمر کے مطابق محدود رکھا جائے گا تاکہ ان پر ذہنی دباؤ کم ہو اور انہیں دوبارہ نفسیاتی صدمے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بیان کے مطابق یہ اصلاحات اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے معاہدے سمیت بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تیار کی گئی ہیں، جبکہ یورپی اور شمالی یورپی ممالک کے کامیاب نظام سے بھی رہنمائی لی گئی ہے۔