عالمی ادارۂ صحت نے کانگو اور ہمسایہ ملک یوگنڈا میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو “عالمی تشویش کی حامل صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال” قرار دے دیا ہے۔ اس وبا میں اب تک 300 سے زائد مشتبہ کیسز اور کم از کم 88 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق یہ وبا اس وقت عالمی وبا کے معیار پر پوری نہیں اترتی، اس لیے بین الاقوامی سرحدیں بند کرنے کی سفارش نہیں کی گئی۔
ادارے نے بتایا کہ کانگو کے دارالحکومت کنشاسا میں بھی ایبولا کا ایک لیبارٹری سے تصدیق شدہ کیس سامنے آیا ہے۔ مریض مشرقی صوبے ایتوری سے آیا تھا، جہاں اس وبا کا مرکز موجود ہے۔ ایتوری، کنشاسا سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور واقع ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق شمالی کیوو صوبے میں بھی مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ صوبہ آبادی کے لحاظ سے اہم ہے اور ایتوری کے ساتھ سرحد رکھتا ہے۔
ادھر مشرقی کانگو کے بڑے شہر گوما کی مقامی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ شہر میں ایبولا کا پہلا تصدیق شدہ مریض سامنے آیا ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ شخص ایتوری سے آیا تھا اور اسے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
افریقہ کے ادارۂ صحت “افریقہ سی ڈی سی” کے مطابق کانگو کے ایتوری صوبے میں اب تک 246 مشتبہ کیسز اور 65 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جبکہ یوگنڈا میں بھی ایک ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
اس سے پہلے یہ وائرس صرف دو مرتبہ سامنے آیا تھا۔ پہلی بار 2007 میں یوگنڈا کے ضلع بُنڈی بُگیو میں، جبکہ دوسری بار 2012 میں کانگو میں اس کا پھیلاؤ دیکھا گیا تھا۔
صحت حکام کے مطابق مشرقی کانگو میں جاری مسلح تنازعات، شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں اور کان کنی کے باعث لوگوں کی مسلسل نقل و حرکت نے بیماری پر قابو پانے کی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔