نیپالی کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے بدھ کے روز دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کر کے رواں موسمِ بہار کے لیے باضابطہ طور پر راستے کھول دیے ہیں، جس کے بعد سینکڑوں کوہ پیما آئندہ ہفتوں میں چوٹی سر کرنے کی کوشش کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق رسی نصب کرنے والی ٹیم کے کم از کم 12 ارکان نے چوٹی تک رسائی حاصل کی، جسے ایورسٹ میں ‘سپرنگ سیزن’ کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹیم نے بدھ کی صبح چوٹی تک رسائی حاصل کی، جس کے بعد دیگر کوہ پیما بھی آگے بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔
منتظمین کے مطابق اس سال راستہ بنانے کے کام میں اس وقت رکاوٹ پیدا ہوئی جب کھمبو آئس فال کے اوپر برف کا ایک بڑا تودہ نمودار ہوا۔ کھمبو آئس فال کو ایورسٹ کے خطرناک ترین حصوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاہم منتظمین نے 8,849 میٹر بلند چوٹی تک پہنچنے کے لیے ایک متبادل راستہ تیار کر لیا، جس سے سیزن کی تیاری جاری رکھی جا سکتی ہے۔
نیپال نے اس سال ایورسٹ کے لیے ریکارڈ 492 پرمٹ جاری کیے ہیں۔ اندازہ ہے کہ نیپالی گائیڈز سمیت تقریباً ایک ہزار افراد آئندہ دنوں میں چوٹی کی جانب روانہ ہوں گے۔
کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد کے باعث ایک بار پھر رش اور طویل قطاروں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر اگر خراب موسم کی وجہ سے چڑھائی کے لیے دستیاب وقت کم ہو گیا۔
2019 میں چوٹی کے قریب شدید رش کے باعث کوہ پیماؤں کو منفی درجہ حرارت میں کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا تھا، اور متعدد اموات کی وجہ بھی اسی بھیڑ کو قرار دیا گیا تھا۔
اس سال چین نے تبت کی جانب سے ایورسٹ کا شمالی راستہ بند رکھا ہے، جس کے باعث زیادہ تر مہمات نیپال کے راستے انجام دی جا رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سال سب سے زیادہ 109 پرمٹ چینی کوہ پیماؤں کو جاری کیے گئے ہیں جبکہ امریکی کوہ پیماؤں کی تعداد 76 ہے۔
رواں سیزن میں ایورسٹ کی تیاریوں کے دوران تین نیپالی کوہ پیما ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو غیر ملکی کوہ پیما دیگر ہمالیائی چوٹیوں پر جان کی بازی ہار گئے۔
نیپال، جہاں دنیا کی 10 بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ واقع ہیں، کوہ پیمائی کی سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بہت حد تک انحصار کرتا ہے۔