پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف جمعرات کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں فردِ جرم عائد کر دی گئی، جِس کے بعد عمران خان پر مقدمات کی تعداد 130 سے تجاوز کر گئی۔
عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے 100 کارکنان اور رہنماؤں نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے بے گناہی کی اپیل کی ہے۔
جی ایچ کیو حملہ کیس ہے کیا؟
پراسیکیوشن کے مطابق مئی 2023 میں عمران خان کی کرپشن کیس میں مختصر گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنان نے راولپنڈی میں واقع پاکستان کی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر(جی ایچ کیو) پر حملہ کیا تھا۔پراسیکیوشن کے مطابق کارکنان نے جی ایچ کیو میں موجود فوجی تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں کو نشانہ بنایا تھا، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے اِن الزامات کو مسترد کیا گیا۔
72 سالہ عمران خان اِس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جِن میں کرپشن اور دہشت گردی کے الزامات شامل ہیں۔
ڈی چوک پر دھرنے کے بعد عمران خان کو نئے مقدمات کا سامنا
پاکستان تحریک ِ انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے 24 نومبر کو پارٹی کارکنان کو ملک گیر احتجاج کرنے کے لیے کہا اور اِسے اپیل کو پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے “آخری کال ” کا نام دیا گیا۔ 24 نومبر کو ملک بھر سے پی ٹی آئی کارکنان نکلے ،حکومت کی جانب سے کارکنان کو روکنے کے لیے دارالحکومت اسلام آباد آنے والی تمام سڑکوں پر کنٹینرز لگائے گئے۔
26 نومبر کو پی ٹی آئی کا قافلہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور عمران خان کی اہلیہ “بشریٰ بی بی” کی قیادت میں ڈی چوک پہنچا، جہاں رات کو اسلام آباد پولیس اور رینجرز کے سیکیورٹی آپریشن کے بعد پی ٹی آئی کارکنان منتشر ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں خان کی بہن نورین نیازی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران پولیس نے بتایا کہ اسلام آباد میں مجموعی طور پر 76 مقدمات درج ہیں، جن میں سے 14 نئے مقدمات 24 نومبر کی ریلی کے بعد شامل کیے گئے۔
پنجاب پولیس نے لاہور ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ صوبے میں سابق وزیراعظم کے خلاف 54 مقدمات درج ہیں، جس کے بعد عمران خان کے خلاف مقدمات کی مجموعی تعداد 130 سے تجاوز کر گئی۔