آسکرز ایوارڈز 2027: فلموں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق نئے قواعد متعارف

اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے 2027 کے آسکرز ایوارڈز کے لیے نئے قواعد جاری کر دیے ہیں، جن میں پہلی بار فلموں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے متعلق رہنما اصول شامل کیے گئے ہیں۔

اکیڈمی کے مطابق اے آئی کے استعمال پر مکمل پابندی نہیں لگائی گئی، تاہم فلم سازی میں انسانی تخلیقی کردار کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔ نئے قواعد کے تحت نامزدگی کا فیصلہ کرتے وقت یہ دیکھا جائے گا کہ تخلیقی عمل میں انسان کا کردار کتنا نمایاں ہے۔

اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو افسر بل کریمر کا کہنا ہے کہ فلمی صنعت کے عالمی ہونے کے ساتھ قواعد میں تبدیلی ضروری تھی تاکہ بین الاقوامی فلموں کو بہتر انداز میں شامل کیا جا سکے۔

اکیڈمی کی صدر لینیٹ ہاول ٹیلر نے کہا ہے کہ تخلیقی عمل میں انسان کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی، جبکہ اے آئی سے متعلق پالیسی وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی رہے گی۔

نئے قواعد کے مطابق اداکاری کے شعبے میں صرف وہی پرفارمنس قابلِ قبول ہوں گی جو انسانوں نے اپنی رضامندی سے انجام دی ہوں۔ اسی طرح اسکرین پلے کی کیٹیگری میں واضح کیا گیا ہے کہ کہانی مکمل طور پر انسان کی لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔

بین الاقوامی فلموں کے شعبے میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اب وہ فلمیں بھی آسکر کے لیے اہل ہوں گی جو کانز فلم فیسٹیول، وینس فلم فیسٹیول اور ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول جیسے بڑے میلوں میں نمایاں ایوارڈ جیت چکی ہوں، چاہے انہیں ان کے ملک کی جانب سے باضابطہ طور پر نامزد نہ کیا گیا ہو۔

مزید یہ کہ اب بین الاقوامی فلم ایوارڈ میں ملک کے بجائے فلم اور اس کے ہدایتکار کو براہِ راست تسلیم کیا جائے گا۔

اداکاری کے شعبے میں ایک اور اہم تبدیلی یہ ہے کہ اب ایک اداکار ایک ہی کیٹیگری میں ایک سے زیادہ نامزدگیاں حاصل کر سکے گا۔

اکیڈمی کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد فلمی صنعت میں شفافیت، جدت اور عالمی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں