عرب دنیا کا امریکا میں مزید وسائل خرچ کرنا بے معنی ہے، امریکا ہمیشہ اسرائیل کو ترجیح دے گا، الجزیرہ کی رپورٹ

مشرقِ وسطیٰ کے امور پر لکھنے والے تجزیہ کار حسین چُکر نے الجزیرہ کے لیے اپنے ایک مضمون میں مؤقف پیش کیا ہے کہ امریکی کے ساتھ اتحاد میں مزید وسائل لگانا بے معنی ہے کیونکہ امریکہ ہمیشہ عرب دنیا پر اسرائیل کو ترجیح دے گا، جبکہ خطے میں پائیدار سلامتی صرف عرب اتحاد کے ذریعے ہی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

حسین چُکر کے مطابق کئی دہائیوں تک خلیجی ممالک یہ سمجھتے رہے کہ امریکہ ان کا سب سے اہم تزویراتی شراکت دار ہے، اسی لیے انہوں نے واشنگٹن کے ساتھ سلامتی، توانائی، مالیات اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں گہرے تعلقات قائم کیے۔ تاہم ان کے بقول ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ شروع کرتے وقت امریکہ نے اپنے خلیجی اتحادیوں کے تحفظات اور اپیلوں کو نظر انداز کر دیا۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ اب جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کر رہی ہے تو بھی ایسا دکھائی دیتا ہے کہ واشنگٹن کی اولین ترجیح اسرائیل کے مفادات ہیں، جبکہ عرب اتحادیوں کے خدشات کو ایک مرتبہ پھر پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

مصنف کے مطابق خلیجی ممالک نے نہ صرف اپنی سرزمین پر امریکی فوجی موجودگی کی اجازت دی بلکہ امریکہ کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مالی تعاون کو بھی غیر معمولی حد تک فروغ دیا۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا کہ 2024 میں دونوں فریقوں کے درمیان تجارت 120 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، جبکہ 2025 کے ریاض سربراہی اجلاس میں 2 کھرب ڈالر سے زائد کے تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدے ہوئے۔

حسین چُکر لکھتے ہیں کہ خلیجی ریاستیں اس تعاون کے بدلے میں کم از کم یہ توقع رکھتی تھیں کہ امریکہ ان کے بنیادی مفادات کا احترام کرے گا۔ ان مفادات میں معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنا، خطے میں استحکام قائم رکھنا اور توانائی کی محفوظ ترسیل یقینی بنانا شامل تھا۔

مضمون کے مطابق سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی اقدامات کیے، یمن جنگ کے خاتمے کی کوشش کی، ایران اور ترکی کے ساتھ روابط بہتر بنائے اور پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے۔ مصنف کے مطابق یہ اقدامات محض وقتی حکمت عملی نہیں بلکہ ایک نئے علاقائی نظام کی تشکیل کی کوشش تھے۔

تاہم حسین چُکر کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی علاقائی حکمت عملی کو ترجیح دیتے ہوئے استحکام کے بجائے کشیدگی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق اس پالیسی نے آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کو خطرے میں ڈال دیا، جس سے عالمی تیل اور گیس منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا ہوئی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ عرب ممالک کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ امریکہ پر انحصار کرتے ہوئے خطے میں پائیدار استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ امریکہ نہ جغرافیائی طور پر اس خطے کا حصہ ہے اور نہ ہی اس کے مفادات مکمل طور پر عرب دنیا سے جڑے ہوئے ہیں۔

مضمون میں متحدہ عرب امارات کے اوپیک سے علیحدگی کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حسین چُکر کے مطابق یہ فیصلہ وقتی طور پر قومی مفاد میں محسوس ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس سے عرب دنیا مزید تقسیم ہو سکتی ہے۔

آخر میں مصنف نے زور دیا کہ عرب ممالک کو امریکہ کے ساتھ اتحاد پر مزید وسائل خرچ کرنے کے بجائے خطے کے اندر معاشی، دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں خود انحصاری پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق عرب دنیا کو داخلی مکالمے، باہمی تعاون اور مشترکہ تزویراتی نظام کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں