بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے جوزف چندر شیکھرالمعروف ’تھلاپتی‘ کی جماعت تملگا ویٹری کڑگم (ٹی وی کے) نے اپنی پہلی ہی انتخابی مہم میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ابتدائی نتائج میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر برتری حاصل کر لی ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق، ٹی وی کے نے ریاست کی دو بڑی جماعتوں دراوڑ منیترا کڑگم اور آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم کی طویل سیاسی بالادستی کو چیلنج کر دیا ہے۔
وجے، جنہیں مداح ’تھلاپتی‘ کے نام سے جانتے ہیں، نے فلمی دنیا میں اپنے کیریئر کا آغاز بطور چائلڈ آرٹسٹ کیا تھا۔ بعد میں وہ تمل فلم انڈسٹری کے بڑے ستاروں میں شمار ہونے لگے۔ ان کی فلموں میں سماجی انصاف، کسانوں کے مسائل، صحت کے نظام میں بدعنوانی اور خواتین کے حقوق جیسے موضوعات نمایاں رہے، جس سے ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
وجے نے فروری 2024 میں اپنی سیاسی جماعت ‘ٹی وی کے’ کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ تمل ناڈو میں فلمی ستاروں کا سیاست میں آنا کوئی نئی بات نہیں، تاہم مبصرین کے مطابق وجے کافی عرصے سے مختلف سماجی اور سیاسی معاملات پر آواز اٹھاتے رہے تھے۔
انتخابی مہم کے دوران انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی جماعت کا ‘نظریاتی دشمن’ جبکہ ڈی ایم کے کو ‘سیاسی دشمن’ قرار دیا۔ انہوں نے نوجوان ووٹروں میں روایتی جماعتوں کے خلاف پائی جانے والی بے چینی کو اپنی انتخابی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا۔
ٹی وی کے کے منشور میں نوجوانوں، خواتین اور ماہی گیروں کے لیے کئی وعدے شامل تھے۔ پارٹی نے ماہی گیروں کے لیے امدادی پیکج، طلبہ کے لیے بغیر ضمانت تعلیمی قرضے، اور خواتین کے لیے مالی معاونت اور مفت گیس سلنڈر جیسی اسکیموں کا اعلان کیا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ٹی وی کے حکومت بنانے کے لیے درکار نشستوں کے قریب پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ برتری برقرار رہتی ہے تو یہ تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جائے گی، جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے صرف ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے ہی اقتدار میں آتی رہی ہیں۔