امریکا کی قیادت میں ‘وار آن ٹیرر’ نے خیبر پختونخواہ کی ایک پوری نسل کو تعلیم سے محروم رکھا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘وار آن ٹیرر’ نے ہماری ایک پوری نسل کو تعلیم سے محروم رکھا، جس کے باعث یہ صوبہ دیگر علاقوں کے مقابلے میں پیچھے رہ گیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نصاب میں تبدیلی لا رہی ہے اور اسے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بنایا جا رہا ہے، جس کے تحت مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اعداد و شمار کے تجزیے جیسے مضامین شامل کیے جا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے ادارہ برائے انتظامی علوم ‘آئی ایم سائنسز’ میں یورپی یونین کے تعاون سے قائم کیے گئے سنٹر آف ایکسیلینس برائے ڈیجیٹل اور جدید مہارتوں کی افتتاحی تقریب کے بعد کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید تعلیم فراہم کرے گی اور امید ظاہر کی کہ صوبائی حکومت اور یورپی یونین کے درمیان تعاون مزید بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون سے طلبہ اور اساتذہ کے تبادلہ پروگراموں کے ذریعے صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے اور اسی مقصد کے لیے انہیں جدید مہارتوں سے آراستہ کرنے کے پروگرام فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی کے لیے کوئی گنجائش نہیں اور تمام تقرریاں میرٹ پر کی جا رہی ہیں، جن میں 16 ہزار اساتذہ اور 2 ہزار 400 ڈاکٹروں کی بھرتی شامل ہے۔

وزیر اعلیٰ نے طلبہ کو دعوت دی کہ وہ بدعنوانی کی نشاندہی کریں اور یقین دہانی کرائی کہ اس پر کارروائی کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ ان کی طاقت ہیں اور وہ انہی کے تعاون سے بدعنوان نظام کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں اور انٹرن شپ سے متعلق پالیسی متعارف کرا رہی ہے جبکہ وظائف کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے، تاکہ مالی مشکلات کا شکار طلبہ کی مکمل معاونت کی جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کے مستقبل کے طور پر نوجوانوں کو آگے بڑھنا ہوگا اور عمران خان کو بھی ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جیل میں تنہائی میں قید ہیں، انہیں اہل خانہ اور ذاتی معالجین سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور اسپتال جانے کی بھی سہولت نہیں دی گئی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث عمران خان کی بینائی کا 80 فیصد حصہ متاثر ہو چکا ہے۔

دریں اثنا وزیر اعلیٰ نے یورپی یونین کے وفد سے بھی ملاقات کی جس کی قیادت پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمنداس کاروبلیس کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران وفد نے افغانستان کے ساتھ تعلقات اور موجودہ صورتحال پر وزیر اعلیٰ کے مؤقف سے آگاہی حاصل کی۔

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ خیبر پختونخوا اور افغانستان کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی اور ثقافتی روابط موجود ہیں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی مؤثر راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طویل جنگ کے اثرات خیبر پختونخوا پر بھی پڑے ہیں، جس سے خصوصا نوجوان متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں عدم استحکام کا براہ راست اثر خیبر پختونخواہ پر پڑتا ہے، جبکہ دونوں کے درمیان سالانہ تجارت جو پہلے 10 ارب روپے سے زائد تھی، سرحدی کشیدگی کے باعث حالیہ مہینوں میں شدید متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے سنٹر آف ایکسیلینس کے قیام میں یورپی یونین کے تعاون کو سراہتے ہوئے اسے نوجوانوں کی عملی مہارتوں کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔

ملاقات میں دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور کا جائزہ لیا اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جبکہ یورپی یونین کے سفیر نے ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی ترقی کو تعاون کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کو مزید وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں