اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیلی افواج نے غزہ کی جانب جانے والے ایک امدادی بحری قافلے کے تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس قافلے میں پاکستان رائٹس موومنٹ کے چیئرمین اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔ پاک فلسطین فورم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سینیٹر مشتاق کے ساتھ ہمارا رابطہ گزشتہ چار پانچ گھنٹوں سے منقطع ہے۔
ادھر اسرائیلی وزارت کے مطابق یہ کارکن 20 سے زائد کشتیوں پر سوار تھے اور اب انہیں اسرائیل کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ قافلہ فلسطین نواز کارکنوں پر مشتمل تھا، جس کا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا اور اسرائیل کی جانب سے عائد مجرمانہ محاصرے کو توڑنا تھا۔ قافلے کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے انہیں بین الاقوامی پانیوں میں یونان کے قریب روک لیا۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے نہ صرف کشتیوں کو روکا بلکہ ان پر چڑھائی کرتے ہوئے کچھ کشتیوں کے انجن اور نیویگیشن نظام کو بھی نقصان پہنچایا۔
منتظمین کے مطابق اس کارروائی کے بعد کئی کشتیوں کو خراب حالت میں سمندر میں چھوڑ دیا گیا، جبکہ رابطے کے نظام میں بھی خلل ڈالا گیا، جس سے امدادی کارکنوں کی آپس میں رابطہ کاری متاثر ہوئی۔
ان بیانات میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ خراب کشتیوں پر سوار افراد کو خراب موسمی حالات کا سامنا ہو سکتا ہے، جس سے ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔