ایک خاتون نے 1997 میں 10 برطانوی پاؤنڈز (تقریباً ساڑھے 3 ہزار پاکستانی روپے) میں خریدی گئی کتاب کو 36 ہزار پاؤنڈز (تقریباً 1 کروڑ 25 لاکھ پاکستانی روپے) میں نیلام کرکے ایک شاندار منافع حاصل کیا۔
نایاب کتاب کی کہانی
یہ کتاب جے کے رولنگ کے پہلے ناول ہیری پوٹر اینڈ دی فلاسفرز اسٹون کے پہلے ایڈیشن کی 500 نایاب کاپیوں میں شامل تھی۔ کتاب کی مالک کرسٹین میکیولچ نے اسے اپنے بیٹے ایڈم کے لیے خریدا تھا۔ ایڈم میکیولچ کے مطابق، یہ کتاب برسوں تک ان کے خاندان کے پرانے گھر کے ایک کپ بورڈ میں رکھی رہی۔ اس کی غیر معمولی مالیت کا انکشاف 2020 کے لاک ڈاؤن کے دوران ہوا ، فرسٹ ایڈیشن کی دیگر کتابوں کی خبروں نے ان کی توجہ مبذول کروائی۔
کتاب کی نیلامی
ہینسنز آکشنرز کے ذریعے نیلام کی گئی اس کتاب کو نایاب سمجھا جاتا ہے۔ کتاب کی تصدیق کے بعد میکیولچ خاندان کو ایسا لگا جیسے خواب حقیقت بن گیا ہو۔ یہ پہلے ایڈیشن کی نایاب کاپیاں دنیا بھر میں کتابوں کے شوقین افراد کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ جون 2024 میں اسی ناول کا ایک کور سوتھبیز کے ذریعے امریکا میں 15 لاکھ پاؤنڈز میں نیلام ہوا تھا۔ یہ کور واٹر کلر سے بنایا گیا تھا اور اسے معروف مصور تھامس ٹیلر نے تخلیق کیا تھا۔ اس خاکے کو 2001 میں بھی نیلام کیا گیا تھا، لیکن اب اس نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔
نایاب کتابوں کی قدرو قیمت وقت کے ساتھ غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ قدیم اور نایاب اشیاء کی حفاظت اور ان کی تاریخی اہمیت کو سمجھنا کتنا ضروری ہے۔