آج دُنیا بھر میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کا دِن منایا جا رہا ہے۔ 1947 میں نکبہ کی جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی قراداد 181 کے بعد فلسطین کودو ریاستوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جِس میں ایک عرب ریاست تھی جبکہ دوسری یہودی۔ نکبہ جنگ میں 15 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ،جبکہ 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہجرت کرنا پڑی۔جنگِ عظیم دوم کے بعد یہ ایک عظیم ہجرت تھی۔
ایک طرف جہاں دُنیا بھر میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کا دِن منایا جا رہا ہے تو وہیں دوسری جانب امریکہ کی اسرائیل سے نئے دفاعی معاہدے کی خبر سامنے آئی ۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کو 680 ملین ڈالرز کا اسلحہ فراہم کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور فرانس نے مل کر لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کروایا۔جبکہ امریکہ صدر جو بائیڈن نے اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ بندی کی نئی کوششوں کا اعلان بھی کیا۔
معاہدہ کیا ہے؟
روسی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیل کو فراہم کیا جانے والا اسلحے کا یہ پیکج کافی تاخیر کا شکار تھا۔ یہ معاہدہ ستمبر میں کانگریسی کمیٹیوں کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ اکتوبر میں وسیع جائزے کے لیے جمع کروایا گیا۔ اِس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے فنانشل ٹائمز نے بھی اِس ڈیل پر ایک رپورٹ جاری کی تھی۔
اِس معاہدے میں سینکڑوں چھوٹے قطر کے تباہ کن بم، اور جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن کِٹس (جے ڈی اے ایم) شامل ہیں، جو ناکارہ بموں کو تربیت یافتہ اسلحہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک اِس معاہدے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
روسی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کو 680 ملین ڈالرز کے ہتھیاروں کی فروخت کے پیکج کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
امریکی کانگریس میں اسلحے کے معاہدے کو روکنے کی کوششیں
اسلحے کے اس معاہدے پر امریکی کانگریس کے کئی ڈیموکریٹک سینیٹرز نے اعتراض کیا تھا، جنہوں نے اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے قانون سازی کی کوشش کی۔ تاہم، سینیٹر برنی سینڈرز کی قیادت میں کی جانے والی یہ کوشش اس ماہ مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسلحے کی فراہمی میں تاخیر اسرائیل کے اقدامات سے متعلق نہیں تھی۔ اس حوالے سے رواں سال 900 کلوگرام وزنی بموں کی ترسیل میں ایک وقتی تعطل کی نشاندہی کی گئی تھی، جو رفح میں اسرائیل کی بڑی زمینی کارروائی کو روکنے کی بے سود کوشش تھی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے چند روز قبل بیان دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کی ضرورت اسرائیل کے اسلحے کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا
“یہ کوئی راز نہیں کہ اسلحے اور گولہ بارود کی ترسیل میں بڑی تاخیر ہوئی ہے، لیکن یہ تاخیر جلد ختم ہو جائے گی۔ ہم جدید اسلحے کی فراہمی حاصل کریں گے، جو ہمارے سپاہیوں کو محفوظ رکھے گی اور ہماری جنگی صلاحیت کو مضبوط کرے گی۔”