قوم سے اہم خطاب: 100 روزہ کارکردگی کا جائزہ
بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس نے حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر اتوار کو قوم سے اہم خطاب کیا۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے ملک میں حالیہ ہنگاموں اور بدامنی کے پس منظر میں انصاف کے قیام کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے بھارت سے رابطہ
محمد یونس نے اعلان کیا کہ بنگلا دیش، سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے جلد بھارت سے باضابطہ مطالبہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ہر قتل کا حساب لیں گے اور بھارت سے حسینہ واجد کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کریں گے تاکہ انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔”
حسینہ واجد کا بھارت فرار: پس منظر
سابق وزیراعظم حسینہ واجد 5 اگست کو اپنی حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے بعد اچانک مستعفیٰ ہو کر بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ ان کی حکومت کو متنازع کوٹا سسٹم کے خلاف طلبا کے شدید احتجاج کا سامنا تھا۔ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران حالات پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، جس میں 1,500 افراد ہلاک اور 19,000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
حکومت کا مؤقف، انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی
محمد یونس نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ عبوری حکومت ملک میں ہونے والے تمام ہنگاموں اور جانی نقصانات کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ملک میں امن و امان کی بحالی اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔”
عبوری حکومت کا مشن
ڈاکٹر محمد یونس نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ عبوری حکومت کا مقصد ملک کو سیاسی استحکام دینا اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ بھارت سے حسینہ واجد کی حوالگی کے مطالبے کو انہوں نے بنگلا دیش میں قانون کی عمل داری کے لیے اہم قدم قرار دیا۔