“حکمران جماعت کے منشور کو سراہتے ہیں”، عالمی بینک کی جانب سے بنگلہ دیش کو تعاون کی یقین دہانی

عالمی بینک کے صدر اجے بانگا نے بنگلہ دیش کی حکمران جماعت کے انتخابی منشور کو سراہتے ہوئے ملک کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ یقین دہانی واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے اسپرنگ اجلاس کے موقع پر بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ امیر خسرو محمود چودھری سے ملاقات میں کرائی گئی۔

ملاقات میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کے مشیر ریحان اسد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر اجے بانگا نے 2026 کے انتخابات میں کامیابی پر حکومت کو مبارکباد بھی دی۔

وزیر خزانہ نے بنگلہ دیش کی معیشت کو تبدیل کرنے کے لیے عالمی بینک سے مزید مالی تعاون اور بروقت فنڈز کی فراہمی کی درخواست کی۔ اس کے جواب میں عالمی بینک کے صدر نے کہا کہ بنگلہ دیش کو مالی وسائل کے متنوع ذرائع، خصوصاً کیپیٹل مارکیٹ (جیسے بانڈز) کے استعمال میں مدد دی جائے گی۔

اجے بانگا نے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت، ملک بھر میں ڈیجیٹل رابطوں کے فروغ اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (DPI) کی ترقی کو اہم قرار دیا۔

ملاقات کے دوران ریحان اسد نے بتایا کہ حکومت ملک بھر میں جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر قائم کرنے، آئی سی ٹی اور ٹیلی کام شعبے میں اصلاحات لانے اور ہر شہری کے لیے ایک ڈیجیٹل شناخت اور بینک اکاؤنٹ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

عالمی بینک نے اس ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے میں شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

وزیر خزانہ نے تخلیقی صنعتوں کو معیشت اور روزگار کا نیا ذریعہ بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور اس شعبے میں عالمی بینک کی مدد طلب کی۔

اس موقع پر عالمی بینک کے صدر نے مالیاتی اصلاحات، خاص طور پر بینکوں کے غیر فعال قرضوں (NPLs) کے حل، مالیاتی شعبے کی مضبوطی اور ٹیکس نظام میں بہتری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں