بنگلہ دیش میں خسرہ وبا سے 98 بچے جاں بحق، ویکسینیشن مہم تیز کر دی گئی

بنگلہ دیش میں خسرہ کے باعث کم از کم 98 بچوں کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ہزاروں بچوں میں اس بیماری کی علامات سامنے آئی ہیں۔ حکام کے مطابق صورتحال کے پیش نظر متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن مہم تیز کر دی گئی ہے۔

اتوار کو جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چھ ماہ سے پانچ سال تک کی عمر کے 6 ہزار 476 بچوں میں خسرہ کی مشتبہ علامات رپورٹ ہوئی ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سال متاثرہ بچوں اور اموات کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے۔ اس ممکنہ وبا کی وجوہات میں کئی عوامل شامل ہیں، جن میں ویکسین کی کمی بھی ایک اہم سبب ہے۔

سرکاری اعداد کے مطابق اب تک خسرہ کے 826 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 16 اموات کی باقاعدہ توثیق کی گئی ہے۔

خسرہ ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو کھانسی یا چھینک کے ذریعے پھیلتی ہے۔ یہ ہر عمر کے افراد کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم بچوں میں اس کے سنگین اثرات زیادہ ہوتے ہیں، جن میں دماغ کی سوجن اور سانس کے شدید مسائل شامل ہیں۔

بنگلہ دیش میں ماضی میں ویکسینیشن کے ذریعے متعدی بیماریوں پر قابو پانے میں خاصی پیش رفت ہوئی تھی، تاہم جون 2024 میں شروع ہونے والی خسرہ مہم سیاسی بدامنی کے باعث تاخیر کا شکار ہو گئی تھی۔

حکام کے مطابق ملک میں زیادہ تر بچوں کو نو ماہ کی عمر میں ویکسین دی جاتی ہے، لیکن حالیہ متاثرہ بچوں میں بڑی تعداد چھ ماہ کے بچوں کی بھی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 95 ہزار بچے خسرہ کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر وہ بچے شامل ہوتے ہیں جنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی یا مکمل حفاظتی ٹیکے نہیں مل سکے۔ خسرہ کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، اس لیے ویکسینیشن کو ہی اس سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں