امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنے چاند اور مریخ کے منصوبوں میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ ایجنسی نے چاند کے مدار میں طے شدہ خلائی اسٹیشن کے منصوبے کو روک کر اگلے سات سال میں چاند کی سطح پر ۲۰ ارب ڈالر کی لاگت سے ایک بیس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ جوہری توانائی سے چلنے والا اسپیس کرافٹ مریخ بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔
ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزیک مین نے کہا ہے کہ بیس کے لیے پہلے روبوٹک مشن بھیجے جائیں گے جو سائٹ تیار کریں گے، ٹیکنالوجی کی جانچ کریں گے اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شروع کریں گے، تاکہ اگلے دس سال میں خلا باز وہاں پہنچ سکیں۔
ناسا نے مریخ کے لیے اسپیس ریئیکٹر ۱ فریڈم نامی اسپیس کرافٹ بھیجنے کا اعلان بھی کیا ہے، جو جوہری توانائی کے ذریعے دور خلا میں حرکت کرے گا۔ یہ مشن مریخ پر ہیلی کاپٹر بھی پہنچائے گا، جس کی طرح پہلے انجینویٹی ہیلی کاپٹر ناسا کے پرسویئرنس روور کے ساتھ مریخ پر اترا تھا۔
ناسا نے بتایا کہ چاند کے مدار میں بننے والے لُونر گیٹ وے اسٹیشن کے کچھ حصے اب چاند کی سطح پر استعمال کیے جائیں گے، جس سے جاپان، کینیڈا اور یورپی خلائی ایجنسی کے کردار غیر یقینی ہو گئے ہیں، کیونکہ یہ ممالک پہلے اسٹیشن کے لیے حصے فراہم کرنے والے تھے۔