ایران امریکہ ممکنہ جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی امریکی منصوبہ، براہِ راست مذاکرات کی کوششیں تیز

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں پیش رفت ہو رہی ہے، جس کے تحت ایک 15 نکاتی امریکی منصوبہ زیرِ غور ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ثالثی میں شامل ایک مصری عہدیدار نے اس منصوبے کو ایک جامع معاہدہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد جنگ بندی تک پہنچنا ہے۔

اس تجویز میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیاں، مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر قدغن، اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کو یقینی بنانا شامل ہے۔

ایک مصری عہدیدار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس منصوبے کو حتمی معاہدہ نہیں بلکہ مزید مذاکرات کی بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ایرانی حکام اب بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر بہت زیادہ شکوک رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس 15 نکاتی منصوبے کا موازنہ غزہ جنگ بندی کے 20 نکاتی فریم ورک سے کیا جا رہا ہے، جس کے لیے دونوں فریقین کی جانب سے سنجیدہ مذاکرات اور تفصیلی کوششیں درکار ہوں گی۔

دوسری جانب ثالثین ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست ملاقات کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر جمعہ تک پاکستان میں ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ تجویز ایران کو بھجوائی جا چکی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں