کیا اسرائیل اور امریکا کے خلاف جنگ میں روس اور چین ایران کو معلوماتی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں؟

مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران اور امریکا-اسرائیل جنگ کے دوران ایک نئی قسم کی جنگ شروع ہو چکی ہے جس میں روایتی ہتھیاروں کے بجائے خفیہ معلومات، ریڈار نظام اور سیٹلائٹ نگرانی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، تین اعلیٰ امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ روس ایران کو نہایت حساس عسکری معلومات فراہم کر رہا ہے، جن میں خطے میں موجود امریکی جنگی بحری جہازوں اور طیاروں کے درست مقامات بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اس انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ برقی لہروں اور سیٹلائٹ نظام کے ذریعے بھی لڑی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، آج کے دور میں دشمن کے ٹھکانے کی درست معلومات حاصل کرنا گولیوں اور میزائلوں سے بھی زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک ٹیلی فون گفتگو کے دوران اس بات کی تردید کی کہ روس ایران کو ایسی معلومات فراہم کر رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تردید کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ روس پہلے ہی یوکرین کی جنگ میں ایران سے ڈرون اور اسلحہ حاصل کر چکا ہے جبکہ امریکہ یوکرین کو روسی اہداف کی نشاندہی کے لیے معلومات فراہم کرتا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں روس کی جانب سے ایران کو معلومات فراہم کرنا ایک تزویراتی تبادلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس فوجی نگرانی کے سیٹلائٹ کی تعداد بہت کم ہے اور وہ سمندر میں تیزی سے حرکت کرنے والے جنگی جہازوں کی مسلسل نگرانی کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے برعکس روس کے پاس جدید سیٹلائٹ نگرانی کا وسیع نظام موجود ہے جو دن رات زمین اور سمندر کی تصویریں اور معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ انہی سیٹلائٹ نظاموں کے ذریعے ایران کو امریکی اور اسرائیلی اہداف کی نشاندہی میں مدد مل رہی ہے۔

اسی طرح چین بھی ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چین نے ایران کو جدید ریڈار نظام فراہم کیے ہیں اور ایران کے فوجی رہنمائی نظام کو امریکی عالمی محلِ وقوعی نظام سے ہٹا کر چین کے خفیہ عالمی سیٹلائٹ نظام سے جوڑ دیا ہے۔ اس کے علاوہ چین کے سیٹلائٹ اور نگرانی کے نظام ایرانی افواج کو دشمن کی نقل و حرکت اور زمینی نقشوں کی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے فراہم کردہ جدید ریڈار نظام ایسے کم فریکوئنسی سگنل استعمال کرتا ہے جو جدید جنگی طیاروں کی پوشیدہ ٹیکنالوجی کو بھی جزوی طور پر بے اثر بنا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اطلاعات ہیں کہ ایران چین سے تیز رفتار بحری جہاز شکن میزائل بھی حاصل کرنے کے قریب ہے جو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیزی سے حرکت کرتے ہیں اور جنگی بحری جہازوں کے لیے بڑا خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے خفیہ ادارے ایرانی فوجی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب کے مراکز کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے متعدد ریڈار نظاموں کو انتہائی تیزی سے نشانہ بنا کر تباہ کیا جس سے ایرانی دفاعی نظام کو شدید دھچکا پہنچا۔

تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے خطے میں موجود امریکہ کے جدید ریڈار نظاموں میں سے تقریباً دس کو تباہ کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں تک خلیجی خطہ امریکہ اور اسرائیل کی جدید عسکری برتری کا میدان رہا ہے، لیکن اب یہ برتری مکمل طور پر یکطرفہ نہیں رہی۔ روس کی معلوماتی مدد اور چین کے تکنیکی تعاون نے ایران کی صلاحیتوں کو نمایاں حد تک بڑھا دیا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں