پاکستان سمیت مسلم اور یورپی ممالک نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی کو ’’ریاستی ملکیت‘‘ قرار دینے کی حالیہ کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’ناقابلِ قبول عملی الحاق‘‘ قرار دیا ہے۔
ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے میں زمین کو ریاستی ملکیت کے طور پر رجسٹر کرنے کے حالیہ فیصلے وسیع پیمانے پر ہیں اور یہ غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی انتظامیہ کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بنیں گے۔
یہ مشترکہ بیان سعودی عرب، اردن، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، مصر، پاکستان، لکسمبرگ، ناروے، فلسطین، پرتگال، قطر، سلووینیا، اسپین، سویڈن، ترکی، متحدہ عرب امارات، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے جاری کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ فیصلے زمینی حقائق کو تبدیل کرنے اور ناقابلِ قبول عملی الحاق کو آگے بڑھانے کی ایک واضح کوشش کا حصہ ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں اسرائیلی حکومت نے 1967 کے بعد پہلی بار مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ’’ریاستی ملکیت‘‘ کے طور پر رجسٹر کرنے کی منظوری دی تھی۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق، کوئی قابض طاقت مقبوضہ علاقوں کی زمین ضبط نہیں کر سکتی۔ اعلامیے کے مطابق، یہ اقدامات مغربی کنارے کے علاقوں اے اور بی، جو مجموعی طور پر تقریبا 40 فیصد علاقہ بنتے ہیں، میں اسرائیلی شہری اختیار کو مزید بڑھا دیں گے۔
مشترکہ بیان، جسے پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی شیئر کیا، میں کہا گیاہے کہ “ہم واضح کرتے ہیں کہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاریاں اور ان کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے فیصلے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سابقہ قراردادوں اور 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات خطے میں بامعنی انضمام کے کسی بھی امکان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اعلامیے میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لے، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور ایسے اقدامات سے باز رہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی اور انتظامی حیثیت میں مستقل تبدیلی کا سبب بنیں۔ بیان کے مطابق، تل ابیب کے حالیہ اقدامات اسرائیل کی آبادکاری پالیسی میں ’’غیر معمولی تیزی‘‘ کا تسلسل ہیں اور یہ ایک فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل پر عمل درآمد کے امکانات پر ’’دانستہ اور براہِ راست حملہ‘‘ ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، کی آبادیاتی ساخت، کردار اور حیثیت کو تبدیل کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے ہر قسم کے الحاق کی مخالفت کا اعادہ کیا گیاہے۔ ممالک نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ آبادکاروں کے تشدد کا خاتمہ کرے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔
بیان میں کہا گیاکہ “ہم بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی آبادکاری کے پھیلاؤ، جبری بے دخلی اور الحاق کی پالیسیوں اور دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔” رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے تناظر میں یروشلم اور اس کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا اور ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا۔ اعلامیے میں یروشلم میں اس حیثیت کی بار بار خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔
یاد رہے کہ بیشتر فلسطینی اراضی باضابطہ طور پر رجسٹرڈ نہیں ہے کیونکہ زمین کی رجسٹریشن ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہے جسے اسرائیل نے 1967 میں روک دیا تھا۔ زمین کی رجسٹریشن مستقل ملکیت کا تعین کرتی ہے، اور حالیہ فیصلے اسی تناظر میں خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔