مریم نواز کے نام اہلِ جھنگ کا پیغام!

گزشتہ روز جب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ضلع جھنگ کا دورہ کیا، تو ہر آنکھ میں ایک امید کی چمک تھی۔ صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولیات کے فقدان نے طویل عرصے سے ہماری زندگیوں کو سست رفتار جبر میں جکڑا ہوا ہے۔ ایسے میں دورے کی خبر نے ایک نئی توقع جگائی، بالخصوص دورے کا مقصد ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ میں کیتھ لیب کا افتتاح تھا۔لیکن سوال یہ ہے، کیا یہ دورہ واقعی کامیاب رہا؟ کیا کیتھ لیب جیسے اقدامات جھنگ کے مسائل کا حل ہیں؟ اور مستقبل کے لیے ہمیں کیا امیدیں رکھنی چاہئیں؟کیتھ لیب کا افتتاح بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے۔


دل کے مریضوں کے علاج کے لیے کارڈیکل کیتھ لیب کا وجود ایک ایسا قدم ہے جو نہ صرف زندگی بچانے والا ہے، بلکہ اس سے بڑے شہروں کا سفر بے موقع اخراجات، وقت اور تکلیف سے جان چھوٹجائے گی۔یہ وہ سہولت ہے جسے عرصہ سے جھنگ کی عوام چاہتی تھی۔لیکن کیا یہ کافی ہے؟اعداد و شمار ہمارے سامنے کچھ حقائق رکھتے ہیں، پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں متعدد کیتھ لیبز قائم کی ہیں، مگر اکثر نئی لیبز اہم شہروں تک محدود رہ گئی تھیں۔ جھنگ جیسے اضلاع میں صحت کے بنیادی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دل، شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔جھنگ کی آبادی چالیس لاکھ کے قریب ہے۔جن میں سے دل کے مریضوں کا تناسب 12 فیصد ہے۔یہ تناسب پنجاب کے دیگر اضلاع کی نسبت بہت زیادہ ہے۔تحقیق اور سروے رپورٹس بتاتی ہیں کہ ساٹھ فیصد ایسے مریض ہیں جنہیں گولڈن آور میں علاج نہ ملنے کی وجہ سے نقصان دہ نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں کیتھ لیب ایک ضروری جزو ہے، مگر ایک جامع طبی نظام کا صرف ایک حصہ۔اس لیے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف کیتھ لیب کا افتتاح ضلع میں صحت کے بحران کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے؟بدقسمتی سے، جواب نہیں میں ہے۔ کیتھ لیب تو ایک بہترین قدم ہے، مگر صحت کے نظام کو کامیاب بنانے کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ اب جھنگ کے لوگ بڑے شہروں کا رخ کیے بغیر دل کی بیماریوں سے متعلق بہترین علاج حاصل کر سکیں گے۔ یہ اعلان سراہنے کے قابل ہے، خاص طور پر ایک ایسے علاقے میں جہاں دور دراز دیہی آبادی کے لیے صحت کی سہولیات تک رسائی بہت محدود تھی۔لیکن عوام کے ذہنوں میں چند بڑی توقعات روشن ہیں،ماہر کارڈیالوجسٹ ڈاکٹرز کی مستقل دستیابی،ایمرجنسی سروسز کی بہتری، ادویات اور ڈائیگناسٹک سہولیات تک بلا رکاوٹ رسائی،دوا  کے مطابق قیمتیں۔یہ توقعات محض خواہشات نہیں، زندگی کی بنیادی ضرورت ہیں۔دورے کے بعد ایک شماریاتی سروے کے دوران جھنگ کے باسیوں کے تاثرات کچھ یوں ہیں۔ 58فیصد خاندانوں کا کہنا ہے کہ علاج تک رسائی مہنگائی کی وجہ سے مشکل ہو گئی ہے۔ 42 فیصد خاندانوں نے ذکر کیا کہ ایمرجنسی سروسز 24/7 دستیاب نہیں ہیں۔اور 35فیصد کے مطابق بچوں کی صحت اور زچگی کے شعبے میں خاص سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دورے کے موقع پر خوش ہونے والی عوام ان حقیقی چیلنجز پر زور دیتی ہے جو ابھی کہیں زیادہ ہیں۔ایک کیتھ لیب اچھی شروعات ہے، مگر صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں چاہئے، کہ مکمل طور پر لیس ایمرجنسی وارڈز،پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز میں ڈاکٹروں کی موجودگی، اسپیشلائزڈ کنسلٹنگ کلینکس کا بھی ترجیحی بنیادوں پر قیام ممکن بنانا چاہئے۔ جھنگ کے ایک سیاستدان نے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو میڈیکل کالج کا درجہ دینے کی بات کی تو وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ڈپٹی کمشنر جھنگ سے اس بارے میں فزیبلیٹی رپورٹ طلب کر لی، مگر انہوں نے کوئی اعلان نہیں کیا کہ مستقبل قریب میں یا کبھی میڈیکل کالج کا قیام کسی منصوبے کا حصہ بن پائے گا۔تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ میں ایمرجنسی میں مریضوں کی اوسط آمد میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کیلئے ہسپتال میں موجود بیڈز، حاضری کے لیے ماہر ڈاکٹرز کی تعداد بھی کم ہے۔

تعلیم وہ بنیاد ہے جس سے صحت اور معاشی ترقی دونوں کو سہارا ملتا ہے۔ ماسٹرز ڈگری رکھنے والا نوجوان اگر اپنے ضلع میں موقع نہیں پاتا، تو وہ مہنگے شہروں کی طرف رخ کرتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ  تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم کے مراکز بنائے،نوجوانوں کو مقامی روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ تعلیم کے اعتبار سے جھنگ کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ مجموعی طور پر 37 فیصد سکولز ایسے ہیں جہاں اساتذہ کی کمی ہے۔ پرائمری پاس بچوں کی تعداد 78فیصد ہو چکی ہے جبکہ ثانوی تعلیم تک پہنچنے والے بچوں کی تعداد صرف 45 فیصد ہے۔ طالبات کی تعلیمی میدان میں شرح میں اضافہ ہوا ہے مگر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس کے شعبہ جات میں ان کی شرکت صرف 18 فیصد ہے۔تعلیم کے یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جھنگ کا مسئلہ صرف طبی سہولتوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جڑ تعلیم ہے جو روزگار، صحت اور معاشی بہتری کے شعبوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ضلع جھنگ کے لوگ کئی دہائیوں سے فصلوں، چھوٹے کاروبار اور مزدوری کے شعبوں پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں کی جانب رجوع کرتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ  صنعتی زونز اور کاروباری مراکز قائم کرے۔چھوٹے تاجروں کو قرضہ اور تربیت دی جائے۔ کچھ اعداد و شمار کے مطابق جھنگ کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس وقت بے روز گاری کی شرح ساٹھ فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ زراعت کے علاوہ صنعت میں روزگار کے مواقع صرف 16فیصد ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں ملازمتوں کی شرح بھی محض 38 فیصد ہے جو کم استحکام اور بے یقینی کا سبب ہے۔ صاف پانی، بجلی اور صحت مند رہائشی ماحول وہ بنیادی حقوق ہیں جنہیں عوام بطور حق مانگتی ہے۔ان کا حصول کسی شاہکار منصوبے سے کم نہیں۔

کچھ اعداد و شمار کے مطابق جھنگ کے شہری علاقوں میں بھی صرف چالیس فیصد لوگوں کو سرکاری طور پر قائم کردہ فلٹریشن پلانٹس سے صاف پانی دستیاب ہے، باقی لوگ نجی طور پر قائم کمپنیوں سے پانی خرید کر یا وہی زہر آلود زمینی پانی پی کر اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ صرف 47 فیصد ایسے شہری علاقے ہیں جنہیں بلاتعطل بجلی دستیاب ہے، اور 54 فیصد علاقوں کو پکی سڑکیں دستیاب ہیں جن میں سے زیادہ تر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ جبکہ دیہی علاقے تا حال ان سہولیات مکمل طور پر خالی ہیں۔ اگر کامیابی کو صرف کیتھ لیب کے افتتاح سے ناپا جائے تو ہاں یہ ایک خوش کن اقدام ہے۔لیکن اگر کامیابی کو ضلع کے وسیع تر مسائل کے حل کے پیمانے پر ناپا جائے تو جواب پیچیدہ ہے۔یہ دورہ ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کا اثر تبھی حقیقی شمار ہوگا جب، کیتھ لیب فعال اور ماہرانہ خدمات دے۔صحت کے نیٹ ورک میں دیگر اہم شعبے بھی مضبوط ہوں،نوجوانوں کو روزگار اور تعلیم کے بہتر مواقع ملیں، بنیادی سہولیات تک عوام کی رسائی آسان بنائی جائے۔

یہاں وہ تجاویز ہیں جو ضلع جھنگ کے مستقبل کو بہتر بنا سکتی ہیں۔صحت کے نظام کا منصوبہ بند توسیعی ڈھانچہ،ماہرانہ تربیت اور اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی مستقل دستیابی،عیادت اور علاج کی سہولتوں تک آسان رسائی،اور ان تمام مسائل کو پورا کرنے کیلئے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال جھنگ کو میڈیکل کالج کا درجہ دینا، تعلیم و تربیت کے اداروں کی مضبوطی،مقامی سطح پر روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری،صاف پانی، بنیادی سہولیات اور سماجی فلاح یہ سب وہ ستون ہیں جن پر اگر توجہ دی جائے تو جھنگ نہ صرف بہتر صحت سروس حاصل کرے گا بلکہ مضبوط، شاداب اور ترقی یافتہ ضلع بھی بن سکتا ہے۔کیتھ لیب کا افتتاح خوش آئند ہے، اور مریم نواز شریف کے دورے نے امید کی ایک کرن روشن کی ہے۔لیکن امید تب تک تعبیر نہیں بن سکتی جب تک عمل، منصوبہ بندی اور عوامی شراکت ایک ساتھ شامل نہ ہوں۔آئیے ہم سب مل کر اس امید کو حقیقت میں بدلیں کیونکہ ہر شہری کو بہتر صحت، بہتر تعلیم، بہتر زندگی کا حق ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں