‘وینزویلا کو غیر قانونی فوجی جارحیت کا سامنا ہے’، بطورِ عبوری صدر عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد ڈیلسی کا پارلیمنٹ سے خطاب

وینزویلا میں پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران ڈیلسی رودریگیز نے عبوری صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ ڈیلسی رودریگیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں مادورو اور ان کی اہلیہ کے مبینہ ‘اغوا’ پر شدید رنج اور دکھ ہے۔

ادھر امریکی عدالت میں ایک ڈرامائی منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو نے خود کو ‘جنگی قیدی’ قرار دیا۔ اسی تناظر میں اقوام متحدہ میں بھی امریکہ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے توانائی کے ذخائر کسی ایسے رہنما کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑے جا سکتے جو ‘انصاف سے فرار’ ہو۔

مادورو کی عدالتی پیشی سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وینزویلا کی صورتحال پر غور کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر وینزویلا کے سفیر نے کہا کہ ان کا ملک ایک ‘غیر قانونی اور مسلح حملے’ کا نشانہ بنا ہے، جس کی کوئی قانونی بنیاد یا جواز موجود نہیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے نکولس مادورو کو ‘نام نہاد’ اور ‘غیر قانونی’ صدر قرار دیتے ہوئے امریکی کارروائی کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے مادورو کی گرفتاری کے لیے ایک محدود اور قانون نافذ کرنے کی نوعیت کی کارروائی انجام دی ہے۔
کابینہ کے اجلاس میں رودریگیز نے عندیہ دیا کہ ان کی حکومت امریکہ کے ساتھ محدود سطح پر تعاون کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مشترکہ ترقی پر مبنی تعاون کے ایجنڈے پر مل کر کام کیا جائے۔

حلف برداری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈیلسی رودریگیز نے کہا کہ انہوں نے یہ عہدہ درد کے احساس کے ساتھ سنبھالا ہے کیونکہ ملک کو اس وقت غیر قانونی فوجی جارحیت کا سامنا ہے۔ انہوں نے وینزویلا میں امن کے قیام اور معاشی و سماجی استحکام لانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران نکولس مادورو کے بیٹے نے بھی خطاب کیا اور اپنے والدین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وینزویلا واپس آئیں گے۔ انہوں نے عبوری صدر ڈیلسی رودریگیز کے لیے بھی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا

اپنا تبصرہ لکھیں