ازبکستان نے افغانستان کے ساتھ تورموز–ہیراتن سرحدی گزرگاہ کو چار سال سے زائد عرصے بعد دوبارہ کھول دیا ہے، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان مسافروں کی براہِ راست اور محفوظ آمدورفت بحال ہوگئی ہے۔
ازبک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق، آمو دریا پر قائم یہ گزرگاہ دوطرفہ تجارت بڑھانے اور مسافروں کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ گزرگاہ 24 اگست 2021 کو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بند کر دی گئی تھی، جس سے کابل اور تاشقند کے درمیان تجارت بری طرح متاثر ہوئی۔
بندش سے قبل ازبکستان کے سرحدی مقام ایریٹوم سے افغانستان کے شہر مزار شریف تک 75 کلومیٹر کا سفر صرف ایک گھنٹے میں طے کیا جا سکتا تھا، لیکن گزرگاہ کی بندش کے بعد تاجکستان کے راستے طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا، جس سے سفر کا وقت ایک دن اور ایک رات سے بھی بڑھ جاتا تھا۔
سرحدی گزرگاہ کی بحالی کے بعد چیمبر آف کامرس نے اعلان کیا ہے کہ سابقہ پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور دونوں ملکوں کے تاجروں کے لیے تجارت کے مواقع دوبارہ میسر آ گئے ہیں۔
ازبک حکام کا کہنا ہے کہ گزرگاہ کا دوبارہ کھلنا دونوں ملکوں کے برآمد کنندگان اور تاجروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ازبکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی حجم 2026 تک بڑھ کر ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
اس سے پہلے دونوں ملک تجارت کو دو ارب ڈالر تک لے جانے کے خواہاں تھے۔ اس مقصد کے لیے ازبک حکومت نے افغان مارکیٹ میں جانے والے تاجروں کو خصوصی مراعات دینے کا اعلان کیا ہے، جن میں ہیراتن یا مزارِ شریف میں گودام کے کرائے کی مکمل واپسی اور افغانستان میں ازبک مصنوعات کی تشہیر کے اخراجات کی ادائیگی شامل ہے