واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نیویارک سٹی کے میئر الیکٹ ضہران ممدانی کی وائٹ ہاؤس میں ہونے والی پہلی ملاقات نے امریکی سیاست میں ایک غیر متوقع موڑ پیدا کر دیا۔ مہینوں تک ایک دوسرے پر تنقید اور سیاسی حملوں کے بعد دونوں رہنما نہ صرف خوشگوار انداز میں ملے بلکہ نیویارک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، جرائم اور رہائش کے بحران جیسے اہم مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر بھی متفق نظر آئے۔ یہ گرمجوش ماحول سیاسی مبصرین کے لیے حیران کن تھا، کیونکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کافی گہرے سمجھے جاتے تھے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ملاقات کے دوران وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں کھڑے ممدانی خاصے پُراعتماد دکھائی دیے جبکہ صدر ٹرمپ نے کئی مرتبہ ان کی تعریف کی، جو اس رویے سے بالکل مختلف تھا جس میں وہ ممدانی کو ’’کمیونسٹ‘‘ اور ’’شدید بائیں بازو کا انتہاپسند‘‘ قرار دیتے رہے تھے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ دونوں اتنے زیادہ امور پر ایک دوسرے کے قریب نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نیویارک شہر ترقی کرے اور عوام کو درپیش مشکلات کم ہوں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ضہران ممدانی، جو یکم جنوری سے میئر کے عہدے کا چارج سنبھالیں گے، نے گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں بحث اختلافی معاملات پر نہیں بلکہ مشترکہ اہداف کے گرد رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح نیویارک کے شہریوں کو درپیش معاشی دباؤ کم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملاقات میں توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخ اور رہائش کی لاگت خصوصی موضوع رہے۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے نیویارک کی بڑی یوٹیلیٹی کمپنی کون ایڈیسن پر بھی تنقید کی اور اسے نرخ کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ حکومت کو کمپنی سے بات کرنی ہوگی تاکہ عوام پر بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کم ہو۔ ضہران ممدانی نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو ریلیف دینا ان کی بنیادی ترجیح ہے۔ بعد ازاں کمپنی نے بھی بیان جاری کیا کہ وہ میئر الیکٹ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے