میں نے تو اِس پریشانی کا بہترین حل یہی سوچا ہے کہ فہرست کو الٹا کرکے پڑھا جائے۔ یہ خیال دل کے خوش رکھنے کو میرے ذہن میں آیا۔ ایسا کرنے سے پاکستان اقوامِ عالم میں تیرھویں نمبر پر آجائے گا۔ اس سے زیادہ خوش کن اور کون سے امکانات ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ہمارے پاس زندہ رہنےکا کوئی جواز نہیں۔ اگر فہرست کو غلطی سے سیدھا ہی رکھا اور پڑھاگیا تو پھر مایوسی اور بے بسی ہمارے دماغ کو ماؤف کرکے ہی چھوڑے گی۔ اس حقیقت پسندی کا ایک نقصان یہ ہوگا کہ ہمیں معلوم ہو گا کہ پاکستان دنیا کی قوموں اور ریاستوں میں "قانون کی حکمرانی” کے لحاظ سے ایک سو تیسویں نمبر پر ہے۔
ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے رول آف لاء انڈیکس
2025کے مطابق دنیا میں قانون کی حکمرانی میں جہاں ڈنمارک مسلسل پہلے نمبر پر ہے وہاں پاکستان کا نمبر ایک سو تیسواں ہے۔ ناروے دوسرے، فِن لینڈ تیسرے اور سویڈن چوتھے نمبر پر ہے۔ جب نمبروں کا ذکر آتا ہے تو امریکہ کے بغیر بات نہیں بنتی۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے بغیر بات تو کہیں بھی نہیں بنتی، بَن بھی کیسے سکتی ہے کہ دنیا کی اکثریت نے امریکہ کو ہی اپنا بڑا اور آقا مان رکھا ہے۔ بہرحال امریکہ بھی ستائیسویں نمبر پر ہے، چین بانوے پر بھارت اُناسی پر اور پاکستان بھارت سے بھی اکیاون درجے پیچھے۔ وینزویلا البتہ آخری یعنی ایک سو ترتالیس نمبر پر ہے اور افغانستان ترقی کرکے مزید ایک درجہ بہتر یعنی ایک سو بیالیسویں نمبر پر ہے۔
مذکورہ بالا ادارے نے قانون کی حکمرانی جانچنے کے لئے جو اشارات قائم کئے ، اُن میں انصاف کی فراہمی، انسدادِ بدعنوانی اور بنیادی حقوق کا تحفظ شامل ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان نے اس سلسلہ میں گزشتہ عشرہ بھر میں ذرہ بھی ترقی نہیں کی۔ جنوبی ایشیا کے اکثر ممالک پاکستان سے بہتر پوزیشن میں موجود ہیں۔ افغانستان اور بنگلہ دیش سے ان معاملات میں قدرے بہتر ہونےکے باوجود خطے میں پاکستان نچلی سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ یعنی پاکستان میں حکومت اور قانون وغیرہ اپنا وجود تو رکھتے ہیں، مگر عمل درآمد کی کہانی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ حکومتی اداروں اور عوام کا آپس میں دور کا بھی تعلق نہیں۔ شہریوں کی حکومتی معاملات میں شمولیت اور بنیادی حقوق کی فراہمی کا نظام نہایت غیر تسلی بخش اور ادھورا ہے۔ بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے بیانیئے کے باوجود یہ کاروبار عروج پر ہے۔
شاید پاکستانی قوم ان معاملات میں احساسِ کمتری میں مبتلا ہے۔ "شاید” کالفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ کچھ بھی ممکن ہے، یعنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگ احساسِ کمتری میں مبتلا نہ ہوں۔ ایک عشرہ پہلے تک لوگ ذہنی طور پر بہت حد تک متوازن اور معتدل طبیعت رکھتے تھے، مگر اب ایسا نہیں۔ اب حالت یہ ہے کہ انتہا پسندی نے عام آدمی کو بھی اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے، ہر انسان غصے میں ہے۔ سوشل میڈیا کی یلغار نےصارفین کے خون کی گردش کو ایسا گرم کیا ہے، کہ اچھی بھلی معقول بات پر بھی یار لوگ برے طریقے سے آپس میں الجھنے لگ جاتے ہیں۔ کسی نے اچھی بات بھی لکھ دی تو بہت سے لوگ اس کی مخالفت کو فرضِ عین جانتے ہوئے مخالفانہ تبصرے سے گریز نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ ہر قول متنازع اور غیر مناسب گردانا جاتا ہے۔ احساسِ کمتری کے خیال کو بھی اسی لئے خام تصور کیا جا سکتا ہے کہ اپنے قومی زوال پر بھی اگر بہت سے لوگ پریشان نہیں ہیں، یا اظہارِ افسوس نہیں کرتے یا انہیں حالات جان کر بھی دکھ نہیں ہوا، تو بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ بے حسی نے انسانی اذہان پر بے دردی سے اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں۔
اِس رجحان میں مسلسل پختگی آتی جارہی ہے کہ جو لوگ اختیارات کے حامل ہیں، انہوں نے فرض کر رکھا ہے کہ وہ خود قانون سے بالا تر ہیں۔ یہ ہر بالاتر کا طے شدہ ایجنڈا ہے، اپنے ہاں بہت ہی اعلیٰ حکومتی عہدے قانون کی کسی بھی قسم کی گرفت سے آزاد ہیں۔ اگرچہ یہ فلسفہ بھی بذاتِ خود قانون کی حکمرانی کے منافی ہے، مگر جو لوگ نچلی ذمہ دار سیٹوں پر براجمان ہیں وہ بھی اپنے تئیں قانون کی پابندیوں سے مستثنیٰ ہی ہیں۔ اگر خود کو قانون سے بالا تصور کرنے والے کسی فرد پر قانون لاگو ہوتا ہو، تو وہ ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کرے گا کہ اُسے بھی عام عوام کی طرح قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے؟یہی وجہ ہے کہ ہر فرد یہاں قانون شکنی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
قانون کے مطابق فیصلے کرنے والے بھی اپنے تمام تر دعووں کے باوجود انصاف کے پلڑوں کا توازن برقرار نہیں رکھ سکتے۔ مصلحت، سیاست اور ذاتی پسند نا پسند کی کہانی ہر جگہ جلی حروف میں لکھی دکھائی دیتی ہے۔ بہت سے مقدمات ایک نسل سے شروع ہوئے تو فیصلے اگلی نسل کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ عوام کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ جن عام دفتروں میں عوام کو بلا ناغہ واسطہ پڑتا ہے، وہاں عالم یہ ہے کہ ایک سائل دو سو کلومیٹر سفر کرکے کسی دفتر میں پہنچتا ہے، تو مختصر ترین جواب ملتا ہے، کہ "صاحب نہیں بیٹھے” سائل اپنا سوال جتنی مرتبہ بھی دہرائے گا ایک ہی جواب پائے گا۔ البتہ کرسی پر بیٹھے صاحب کا موڈ خراب ہونے کی صورت میں لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں، یعنی کام میں مزید رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی کہ چھوٹےبڑے افسر کو یہ بالکل پرواہ نہیں کہ آپ کہاں سے آئے ہیں، آپ کو یہاں تک آنے میں کنتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ افسر صاحب کو قانون کے مطابق کام کرنا پڑ جائے تو وہ ایسے ہی محسوس کرتا ہے، جیسے اُسے کسی گناہِ کبیرہ کے ارتکاب پر مجبور کر دیا گیا ہو۔ یا اس کی سرِ عام توہین کر دی گئی ہو۔
شاید یہ عوام کے سوچنے کی بات نہیں کہ حکومتِ پاکستان یا یہاں کے اعلیٰ ادراوں کو بھی کچھ پریشانی ہےکہ دنیا میں ہم کس زوال کا شکار ہیں، اور کس نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، ہمارے پاسپورٹ کی دیارِ غیر میں کتنی وقعت اور اہمیت ہے؟ہمیں متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں بھی پابندیوں کا سامنا ہے، ہمیں سعودی عرب تک میں بھی مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے، مغربی ممالک کے ائیر پورٹس پر ہمارے لوگوں کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے، ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بات بے حس حکمرانوں اور آمرانہ رویہ کے حامل افسران پر ہی ختم نہیں ہوتی، اپنے عوام بھی کسی قانون پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ افسر قانون سے بالا تر ہیں تو عوام قانون شکن۔ ایسے میں اقوامِ عالم میں پاکستان زوال میں ایک سو تیسویں نمبر پر ہے تو حیرت کیسی؟؟ ہاں البتہ دل کے خوش کرنے کو فہرست کو اُلٹا کر کے پڑھا جا سکتا ہے ، کیونکہ بہتری یا تبدیلی کا تو کوئی امکان نہیں۔