امریکا کی برقی طیارے بنانے والی کمپنی بیٹا ٹیکنالوجیز کی مجموعی مالیت 7.44 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے، تاہم کمپنی کے شیئرز نیویارک اسٹاک ایکسچینجمیں متوقع جوش و خروش کے بغیر متعارف ہوئے۔ سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو موجودہ امریکی حکومتی بندش اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں محتاط رویے کے طور پر دیکھا ہے۔
بیٹا ٹیکنالوجیز کے شیئرز 34 ڈالر فی حصص کے نرخ پر کھلے، جو اس کی پیشگی مقررہ قیمت کے برابر ہیں۔ کمپنی نے پیر کے روز 29.9 ملین شیئرز 27 سے 33 ڈالر کی متوقع حد سے اوپر فروخت کیے، جس کے نتیجے میں اسے 1.01 ارب ڈالر حاصل ہوئے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار اب بھی کم لاگت والی جدید فضائی ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
بیٹا ٹیکنالوجیز کو جی ای ایرو اسپیس (GE Aerospace) کی معاونت حاصل ہے، اور اس کی قدر کے لحاظ سے یہ شعبے کی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہو گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں، دیگر معروف برقی ہوابازی کمپنیوں جیسے آرچر ایوی ایشن اور جوبی ایوی ایشن کی موجودہ مالیت بالترتیب 6.72 ارب اور 14.45 ارب ڈالر ہے۔
کمپنی کے سی ای او کائل کلارک کے مطابق، بیٹا ٹیکنالوجیز اب اپنی پروڈکشن لائن کو مستحکم کر چکی ہے اور جہازوں کے مختلف حصوں کی تیاری کے سرٹیفیکیشن کے عمل میں پیش رفت کر رہی ہے۔
کائل کلارک نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی حکومت کی جزوی بندش سے کمپنی کے پروگراموں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔واضح رہے کہ رواں سال جون میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برقی ٹیک آف اور لینڈنگ طیاروں کی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جب کہ اکتوبر میں ایک پائلٹ پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا تاکہ “اڑنے والی ٹیکسیوں” کے منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے۔
کائل کلارک کا کہنا تھا کہ کمپنی اپنے کچھ ہوائی جہاز مخصوص صارفین کو سرکاری منظوری سے قبل بھی فراہم کر سکے گی، تاکہ ادائیگیوں کے ذریعے مالی استحکام حاصل کیا جا سکے