وزیرِ مملکت برائے ثقافت و قومی ورثہ حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات، تجارت اور ثقافتی تعاون کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون خوش آئند ہے اور مستقبل میں اسے مزید فروغ دیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے تاشقند اردو اور پریس کونسل آف پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا انعقاد تاشقند اردو کے قیام کے ایک سال مکمل ہونے کی خوشی میں کیا گیا۔
وزیرِ مملکت نے تاشقند اردو کے ایک سال مکمل ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی ثقافت اور زبان کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی قوم کے ساتھ مضبوط تعلقات کے لیے اس کی زبان اور ثقافت کو سمجھنا ضروری ہے، اور تاشقند اردو کی کامیاب سالگرہ اس حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔

تقریب میں ازبکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن، روشان نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تجارتی روابط مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ ازبکستان کے شہروں اور پاکستان کے بڑے شہروں کراچی، لاہور وغیرہ کے کلچرز میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے تاشقند اردو کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

چئرمین پریس کونسل آف پاکستان ارشد خان جدون نے کہا کہ پریس کونسل ازبکستان کے ساتھ صحافتی شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات صدیوں پرانے ہیں جو مذہبی، ثقافتی اور دوطرفہ بنیادوں پر قائم ہیں۔

تاشقند اردو کے سی ای او محمد حسان نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاشقند اردو نے گزشتہ ایک سال میں دونوں برادر اسلامی ممالک کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا ہے۔ میڈیا کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور اقتصادی روابط کو فروغ دینا ہمارا بنیادی مقصد ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے طور پر ہمارا یقین ہے کہ ازبکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینا نہ صرف پاکستان کے لیے مفید ہوگا بلکہ وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے مجموعی روابط کو بھی مضبوط کرے گا۔ ٹرانس افغان ریلوے، ٹی اے پی آئی اور ٹی اے پی یو کوریڈورز، اور نئی سڑکوں و لاجسٹکس کے منصوبے اس پورے خطے کو علاقائی تجارت و خوشحالی کا مرکز بنا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق عادل نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کا خاندانی اور ثقافتی نظام ایک دوسرے سے مماثل ہے۔ انہوں نے اس موقع پر تاشقند اردو کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ازبکستان کے فعال اور مضبوط نظام سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاک بزنس یو کے فورم سے محمد افضل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسلامی تاریخی مشترکات ہیں۔ دونوں ممالک تجارت، ثقافت اور معیشت میں بے مثال تعاون کر سکتے ہیں۔ میڈیا ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایک پل کی مانند اس تعاون کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

تقریب سے اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید واجد گیلانی اور ممبر رحمتہ اللعالمین اتھارٹی ڈاکٹر فاروق عادل نے بھی خطاب کیا۔
سید واجد گیلانی نے کہا کہ پاکستان کے ازبکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور میڈیا ان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان–ازبکستان دوستی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی و تعلیمی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا