اسلام آباد میں ازبک سفارت خانے کی جانب سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان دوستی اور ثقافتی تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر “BRIDGING CULTURES: TOURISM POTENTIAL OF UZBEKISTAN” کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں ‘ازبکستان ٹورزم برانڈ کے سفیر برائے پاکستان’ کا اعزازی سرٹیفیکیٹ بھی پیش کیا گیا۔

تقریب میں ازبک سفیر علی شیر تختیوف، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (PTDC) آفتاب الرحمٰن رانا، مختلف ٹریول کمپنیوں کے نمائندے، ماہرین، محققین، صحافی، سول سوسائٹی کے اراکین اور پاکستان میں مقیم ازبک برادری کے افراد نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز دونوں ممالک کے قومی ترانوں سے ہوا۔ ازبکستان کے سفیر نے اپنے خطاب میں سمرقند، بخارا، خیوا اور قوقان جیسے تاریخی شہروں کے ثقافتی ورثے اور اسلامی تہذیب میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ 28 اکتوبر 2025 سے ‘ازبکستان ایئر ویز’ تاشقند اور اسلام آباد کے درمیان پروازوں کی تعداد میں اضافہ کر رہی ہے، جو سیاحت اور کاروباری تعلقات کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔
اس موقع پر یونیسکو کی جنرل کانفرنس کے 43ویں اجلاس کے بارے میں بھی آگاہی دی گئی جو سمرقند میں منعقد ہو رہا ہے اور ازبکستان کے عالمی ثقافتی اور تعلیمی کردار کا اعتراف ہے۔ تقریب میں نقشبندیہ سلسلے کے روحانی رہنما شیخ محمد نقیب الرحمان کی شرکت نے تقریب کو روحانی رنگ دیا۔
اس موقع پر حمید محمود چوہدری کو “ازبکستان ٹورزم برانڈ کے سفیر برائے پاکستان” کا اعزازی سرٹیفیکیٹ پیش کیا گیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 30 برسوں سے ازبکستان کے ثقافتی اور روحانی ورثے کو پاکستان میں فروغ دے رہے ہیں اور آئندہ بھی اس مشن کو جذبے کے ساتھ جاری رکھیں گے۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان سیاحت، ثقافت اور عوامی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے