چین، جو دنیا کی سب سے بڑی اسمارٹ فون مارکیٹوں میں سے ایک ہے، وہاں جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران اسمارٹ فونز کی فروخت میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
عالمی ریسرچ کمپنی "آئی ڈی سی” (IDC) کے مطابق، اس عرصے میں ملک بھر میں تقریباً تیرہ کروڑ اڑتیس لاکھ اسمارٹ فون فروخت ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں 0.6 فیصد کم ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ کمی بہت زیادہ نہیں ہے، لیکن یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ چینی صارفین اب اپنے فون طویل عرصے تک استعمال کر رہے ہیں اور نئے ماڈلز پر فوری خرچ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ملک کی اقتصادی سست روی، مہنگائی اور صارفین کے بدلتے ہوئے رجحانات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر بڑی کمپنیوں کو فروخت میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ویوو (Vivo) کی فروخت میں سب سے زیادہ، تقریباً 8 فیصد کی کمی دیکھی گئی، جبکہ اوپو (Oppo) اور شیاؤمی (Xiaomi) جیسے برانڈز کی کارکردگی بھی متاثر رہی۔
دوسری جانب، ہواوے (Huawei) نے اپنی نئی 5G ڈیوائسز کے باوجود توقع کے مطابق نتائج حاصل نہیں کیے۔
البتہ امریکی کمپنی ایپل نے اس سست مارکیٹ میں بھی اپنی گرفت مضبوط رکھی۔ ایپل کی آئی فون 17 سیریز نے لانچ کے فوراً بعد خریداروں کی توجہ حاصل کر لی۔
نئی سیریز میں کیمرے کی بہتری، طاقتور پروسیسر، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی خصوصیات نے صارفین کو متوجہ کیا۔ IDC کے مطابق، ایپل نے دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں فروخت میں معمولی مگر مثبت اضافہ ریکارڈ کیا۔
ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل کا برانڈ اعتماد، معیار اور مسلسل جدت اسے چینی مارکیٹ میں مسابقتی بنائے ہوئے ہے، حالانکہ چینی کمپنیوں کی جانب سے سخت مقابلہ موجود ہے۔