پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں بدقسمتی سے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو سپیس دی گئی، جس کا نقصان عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اٹھانا پڑا۔
کور کمانڈر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ان عوامل کو سمجھنا ضروری ہے جن کی وجہ سے یہ مسئلہ اب بھی موجود ہے۔ انھوں نے اس کی پانچ وجوہات بیان کیں۔
نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہ ہونا، دہشتگردی کے معاملے پر سیاست اور قوم کو اس سیاست میں الجھانا، بھارت کا افغانستان کو بیس کے طور پر استعمال کرنا، افغانستان میں دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں اور ہتھیاروں کی موجودگی اور سیاسی پشت پناہی سے جڑا ٹیرر-کرائم گٹھ جوڑ۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغان شہری پاکستان میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انھوں نے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں واضح طور پر طے ہوا تھا کہ افغان سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی، مگر امریکی انخلا کے بعد وہاں چھوڑے گئے ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ لگ گئے۔
انھوں نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں شدت پسندی کے زیادہ تر واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے جہاں اس معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے اور ایک ’کنفیوژن‘ پیدا کی گئی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ آرمی چیف واضح کر چکے ہیں کہ پاکستانی فوج، پولیس، سکیورٹی ادارے اور ہمارے بچے گورننس کے خلا کو اپنے خون سے پورا کر رہے ہیں۔