پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے اور مظفر آباد کے لال چوک میں مظاہرین دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
احتجاج کے دوران کشمیر کے مختلف مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تب تک دھرنا جاری رہے گا۔
ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ اسمبلی کی 12 نشستوں کے معاملے پر کسی حل تک پہنچنے سے پہلے وہ حکومتی کمیٹی سے مذاکرات نہیں کریں گے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی مظفر آباد پہنچ چکی ہے۔ اس وفد میں وفاقی وزرا امیر مقام، طارق فضل چوہدری، رانا ثنا اللہ، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، سردار یوسف، احسن اقبال اور مسعود شامل ہیں۔
شوکت نواز میر نے کہا کہ مذاکرات صرف اسی وقت ممکن ہیں جب اسمبلی کی 12 نشستوں، حکمرانوں کی مراعات اور کوٹہ سسٹم کے خاتمے کے مطالبات مان لیے جائیں۔
جمعرات کی صبح وزیر اعظم شہباز شریف نے کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کشمیری عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ وزیر اعظم نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی شفاف تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔