صمود فلوٹیلا، امن معاہدہ، کیا ہونے جا رہا ہے؟

آج تاریخ سمندروں کی لہروں پر لکھی جا رہی ہے۔ اسی سالوں سے جاری ظلم و بربریت، نسل کشی، انسانیت کی ذلت انگیز داستان کا اختتامیہ لکھنے کیلئے دنیا کے پچاس سے زائد ممالک سے انسانی ہمدردی، اخوت و ایثار کا جذبہ لئے، سر پر کفن باندھے سینیٹر مشتاق احمد خان، پیر مظہر حسین شاہ، ڈاکٹر اسامہ، اور نیلسن منڈیلا کے پوتے سمیت دیگر عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کی سرپرستی میں ایک قافلہ جسے گلوبل صمود فلوٹیلا کا نام دیا گیا ہے،اس وقت فلسطین کی سر زمین پر اترنے کیلئے تیار ہیں۔ چھوٹی، چھوٹی اڑھتالیس سے پچاس کشتیوں پر مشتمل اس فلوٹیلا نے بڑے استعماری ایوانوں اور قلعوں کو دھچکا دیا ہے۔ بارود اور گولیوں کے سائے میں اعلائے کلمتہ اللہ کے مقصد پر ڈٹے ہوئے دن رات گزارنے والے مظلوموں، یتیموں اور مسکینوں، بھائیوں، بہنوں، بچوں اور بوڑھوں کیلئے،یہ قافلہ صرف سامان خوراک و ادویات لے کر نہیں جا رہا بلکہ اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ وہ اللہ کی مدد سے غزہ پر جاری جابرانہ حصار کو توڑ کر فلسطینیوں کی مدد کریں گے۔

ان سمندری مسافر وں کو ایک درد مشترک انہیں اپنے اپنے ملکوں سے نکال لایا ہے۔ وہ درد جو محصور اور مظلوم انسانوں کی سینوں سے اٹھتا ہے، وہ چیخ جو بارود کے پھٹنے کی آواز میں دب جاتی ہے اور وہ آنسو جو قحط و بارود سے اٹی زمین میں چھپ جاتے ہیں۔ان مسافروں کو نہ تو کسی توپ کا سہارا ہے نہ کوئی ٹینک ان کی ڈھال ہے، نہ کوئی جنگی جہاز ان پر سایہ فگن ہیں۔ ان کی طاقت انسانیت ہے، اور ان کے مقصد کوکوئی پراپیگنڈا، کوئی طاقت نہیں دبا پائی ہے۔

ستمبر 2025 کی آخری دہائی میں یہ صمود فلوٹیلا بحیرہ روم سے غزہ کی جانب روانہ ہوا۔ رپورٹس کے مطابق تقریباََ پچاس سے زائد چھوٹے بحری جہاز اور کشتیوں پر انسانی حقوق کے کارکن، وکلاء اور رضا کار سوار ہیں جن کے پاس اندازاََ اڑھائی سو سے تین سو ٹن امدادی سامان ہے اور بعض مشہور بین الاقوامی شخصیات بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ اس فلوٹیلا نے اسرائیل کی سمندری ناکہ بندی توڑ کر غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کرنی ہے، اطلاعات کے مطابق اس راستے پر متعدد کشتیوں پر اسرائیلی ڈرونز نے حملہ کیا ہے جس سے کشتیوں کو جزوی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کہ مواصلاتی خلل کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

موجودہ صورتحال کے مطابق اس معاملہ پر دو طرح کی آراء گردش کر رہی ہیں۔ پوری دنیا کی نظر میں یہ فلوٹیلا، انسانی امداد اور محض سول تحریک کے طور پر جمہوری حق احتجاج اور امداد کا معاملہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ سمندری ناکہ بندی کی نگرانی کے تحت اس طرح کی کشتیوں کو روکنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔
گلوبل صمود فلوٹیلا اس وقت فلسطین کے سمندری ساحل سے محض کچھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔سمندری سفر پر گامزن عالمی راہ نما بار بار تازہ ترین اپڈیٹس کے ساتھ دنیا کو اپنے سفر کی روداد سنا رہے ہیں، اور اقوام عالم کو اپنے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز پاکستان اور ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک، عرب دنیا کے راہنماؤں کے ساتھ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں، جنگ بندی کیلئے اکیس نکاتی ایجنڈہ پیش کیا ہے۔ اس معاہدے کو عرب ممالک سمیت پاکستان کی جانب سے بھی بہت سراہا گیا ہے۔ لیکن دو اہم فریقین کے درمیان اس معاہدے کو لے کر نہ صرف تحفظات ہیں بلکہ پوری طرح سے وہ اس اکیس نکاتی امن بل کو ماننے کو تیار نہیں۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے ہراٹز کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو ان بیس نکاتی تجاویز پر کچھ حد تک رضا مندی دکھا رہے ہیں، لیکن ان کی کچھ شرائط بھی ہیں۔ مثلاََ ہدف یہ ہے کہ حماس کو مکمل یا بہت حد تک غیر عسکری بنایا جائے، اور اغوا شدگان کی رہائی کے بعد اسرائیلی افواج جزوی یا مرحلہ وار واپسی کریں۔

ان کا مؤقف یہ بھی ہے کہ جنگ بندی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گریٹر اسرائیل کے مقصد سے دستبردار ہوا جائے۔ بعض دائیں بازو کے اسرائیلیعسکری و سیاسی حلقے ان تجاویز پر سخت تحفظات رکھتے ہیں، وہ ہر حال میں غزہ سے حماس کا انخلا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے اکثر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ فلسطینی حقوق، غزہ پر حملوں کا خاتمہ، فلسطینی قیدیوں کی رہائی، اور محصور علاقوں کی حالت کو فی الفور بدلا جائے۔ ایران کی حمایت حماس کی سیاسی اور مزاحمتی جماعتوں کے حقوق کی بحالی کے ساتھ ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نام کی جنگ بندی کافی نہیں، ضمانتیں درکار ہیں کہ اسرائیل اپنی فوجی کاروائیاں دوبارہ شروع نہ کرے، اور حماس کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ کچھ عالمی نشریاتی اداروں نے اپنے اداریوں میں جنگ بندی کی ان اکیس تجاویز کے بارے میں اظہار کیا ہے کہ جنگ بندی کیلئے امن معاہدہ اسی وقت کا میاب ہو سکتا ہے جب مکمل شفاف اور دیر پا نگرانی کی جائے۔ دونوں فریق شرائط پر راضی ہوں، اور تھرڈ پارٹیز یعنی ثالثی کرنے والے ممالک، بین الاقوامی ادارے اور اقوام متحدہ فعال کردار ادا کریں۔

تمام آراء اپنی جگہ ہیں، لیکن گلوبل صمود فلوٹیلا کیلئے راہیں ہموار ہو چکی ہیں۔ امدادی سامان لے کر جانے والے اس قافلے کی رکاوٹ ان جنگ بندی کی اکیس تجاویز پر ہونے والے اجلاس کے بعد ختم ہو چکی ہے۔ گمان غالب ہے کہ پچاس سے زائد ممالک کے کارکنان، اور سماجی راہ نما ؤں کو لے کر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبر دار کیا ہے کہ ان کے قتل سے ایک ایسی جنگ جنم لے سکتی ہے جس کے بعد کوئی اسرائیلی شاید روئے زمین پر نہ رہے۔ اس ایک تجویز کہ امدادی سامان کو فلسطین کی سرزمین پر پہنچنے دیا جائے کے علاوہ تمام تجاویز پر دونوں اطراف کے فریقین کو تحفظات ہیں، جو بعد میں جنگ بندی نہ ہونے کے محرکات ثابت ہوں۔ کیوں کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو تمام نکات پر رضا مندی ظاہر کرتے ہیں تو وہ گریٹر اسرائیل کے مقصد سے دستبردار ہوتے ہیں، جس کے بعد خود اسرائیل میں دائیں بازو کے سیاسی و عسکری حلقے نیتن یاہو کا جینا محال کر دیں گے۔

اور اگر غزہ میں حماس کے مکمل خاتمے کی شرط پر ایران اور فلسطین رضا مندی ظاہر کرتے ہیں تو اسرائیل مستقبل قریب میں دوبارہ اس معاہدے سے مکر سکتا ہے جس کے بعد فلسطین و غزہ نہتے اسرائیلیوں کے رحم و کرم پر رہ جائیں گے۔ اگر ٹرمپ کہ ذمہ داری کی بات کریں تو ماضی میں بہت سے اسباق سیکھنے کو ملتے ہیں، آج یوکرین اکیلے مار کھا رہا ہے، اور خود نیتن یاہو بھی نہ تو عالمی عدالت، نہ امریکہ اور نہ ہی اقوام متحدہ کی ہی کسی بات کو گھاس ڈالتا ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں