پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطین سے متعلق مجوزہ امن معاہدے پر آٹھ اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان کی حمایت کر رہاہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق، اس امن منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فوج تعینات کی جائے گی اور انھیں نہیں لگتا کہ حماس اس کی مخالفت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یقین دلایا گیا ہے کہ حماس اس امن پلان کی حمایت کرے گی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ انڈونیشیا نے فلسطین میں 20 ہزار فوجی تعینات کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امید ہے پاکستان کی قیادت بھی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ آٹھ مسلم ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غزہ میں فوری جنگ بندی اور مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کی۔ ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکاتی امن پلان میں ان ممالک نے ترامیم بھی تجویز کیں۔ ان کے مطابق، ان ملاقاتوں کا مقصد غزہ میں جاری خونریزی کو روکنا اور وہاں امن کی بحالی تھا۔
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اس مسئلے پر بالکل واضح موقف رکھتے ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے قبل ہی مسلم ممالک کے ساتھ رابطے شروع کر دیے تھے تاکہ غزہ میں قیام امن کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں غزہ میں فوری جنگ بندی، بے گناہ شہریوں کا خون بہنے کا سلسلہ روکنے، امداد کی فراہمی، بے دخل کیے گئے شہریوں کی واپسی، تباہ شدہ غزہ پٹی کی بحالی اور ویسٹ بینک پر اسرائیلی قبضے کے عزائم کو ناکام بنانے پر غور کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے خطاب نہایت مؤثر رہا جسے عالمی سطح پر خوب پذیرائی ملی۔ کئی سربراہان مملکت نے وزیر اعظم سے ملاقات کر کے فلسطین کے مسئلے پر بھرپور نمائندگی پر شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے بتایا کہ شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے آٹھ اسلامی ممالک کے ساتھ مشترکہ ملاقات کے علاوہ علیحدہ طور پر بھی ملاقات کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے آسٹریا کے چانسلر، کویت کے ولی عہد، سری لنکا کے صدر، بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور عالمی بینک کے صدر سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق، یہ تمام ملاقاتیں نہایت مثبت اور خوشگوار ماحول میں ہوئیں۔