اِس برس سیلابِ بلا کسی اور ہی انداز میں یوں اُمڈا کہ اپنی صدیوں پرانی راہگزر ڈھونڈھ نکالی۔ راوی ایک عرصے کے بعد اپنی آب وتاب سے بڑھ کرآیا اور بے شمار ملحقہ آبادیوں کو روندتا ہوا آگے چلا گیا ۔کہا گیا کہ راوی نے اپنے راستے اور اپنی جگہ واپس لے لی ہے۔ یہ بہت حد تک اُن لوگوں پر طنز بھی تھی کہ جنہوں نے دریا کے مضافات میں کالونیاں بسا کر اربوں روپے کما لئے تھے۔ مگر جب چناب اور ستلج میں پانی آیا تو اُس نے اپنی جگہ ہی واپس نہیں لی بلکہ قرب و جوار کے بے شمار علاقوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھتے گئے، وہاں بھی سیلاب آگیا جہاں کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔
پانی تو اپنا راستہ بنا ہی لیتا ہے، اگر اس کے راستے میں کسی نے گھر بنا لئے، یا فصلیں کاشت کر لیں تو تباہی کے وقت دریا بے قصور تھا۔ مگر پانی اس مرتبہ معمول سے بہت زیادہ تھا۔ اوپر سے بارشوں نے رہی سہی کسر نکال دی۔ وجوہات کون جانے، کسی نے کہا موسمیاتی تغیرات کا شاخسانہ ہے تو کسی نے دریاوں کی راہوںمیں آباد ہونے والوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ کہیں کہیں سے نحیف سی آوازیہ بھی آئی کہ شامتِ اعمال ہے، گناہوں کی سزا ہے، اسلام سے روگردانی کا نتیجہ ہے۔ جو بھی ہے سیلاب اس قدر خوفناک اور منہ زور تھا کہ بستیوں اور قصبوں کو ڈبوتا، گھر بار اجاڑتا، مویشی اور انسان تک کو ساتھ بہاتا، فصلوں کو تاراج کرتا آگے بڑھتا رہا۔ بے بسی کے مارے لوگ دریا کی طاقتور موجوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہوئے معجزوں کا انتظار کرتے رہے۔
سب سے بڑا مسئلہ تو سیلاب خود بھی تھا، مگر سیلاب سے متاثرین جس دریا کے پار بھی اُترے تو انہوں نے ایک اور دریا سامنے پایا، ایک مصیبت ٹلتی نہ تھی کہ دوسری سامنے آن کھڑی ہوتی۔ ایک طرف وہ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور تھے، تو دریا میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لئے اگر کو نجی کشتی مدد کو آئی بھی تو اُن سے کئی گنا زیادہ پیسے طلب کئے گئے۔ ایک ایک فرد کو بچانے کے عوض ہزاروں روپے وصول کئے گئے۔ ایک اور صدمہ یہ بھی ہوا کہ اگر کسی کو اپنا گھر چھوڑ کر نکلنے کی مہلت بھی ملی تو وہ اس لئے نہیں گیا کہ اُن کی غیر موجودگی میں گھروں میں چوری کے بہت زیادہ امکانات تھے۔ پہلے گھر تباہ ہوئے تھے، اب لُٹانے پر وہ تیار نہیں تھے۔
اپنی پاکستانی قوم کی طرف سےایک ستم یہ بھی ڈھایا گیا کہ جونہی سیلاب نے زور دکھانا شروع کیا ، پنجاب میں چینی تو پہلے ہی غائب تھی، اب آٹا بھی مہنگا ہوگیا۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر تھی کہ آیا ساری گندم سیلابی علاقوں میں ہی پڑی ہوئی تھی کہ سیلاب کے قدم رکھتے ہی آٹے کی قلت پیدا ہو گئی؟ گندم تو کاشت بھی سردیوں کے آغاز میں ہوتی ہے اور گرمیوں کے آغاز میں برداشت کاموسم ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آٹے کی قیمت کم کرکے سیلاب زدگان کے لئے آسانیاں پیدا کی جاتیں، خوردو نوش کی چیزیں انہیں مفت مہیا کی جاتیں، مگر یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے، مصیبت کے ماروں کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی مہنگائی کا سیلاب آگیا۔ ٹماٹر کو دیکھ لیں، پچاس روپے میں دو دانے آتے ہیں۔ آٹے کا بحران حکومت کا نہیں تاجر پیشہ لوگوں کا پیدا کردہ ہے۔
کسان کی کل پونجی اس کی فصل اور مویشی وغیرہ ہی ہوتے ہیں، اگر بے شمار لوگوں کے تو مویشی بھی سیلاب کی نذر ہو گئے، کوئی مویشیوں کو بچانے اور محفوظ مقام پر پہنچانے میں کامیاب ہو بھی گیا تو مکان اور فصل کی بچت کی کوئی صورت نہ تھی۔ جب اُن کی تمام فصلیں تباہ ہوگئیں تو وہ پائی پائی کے محتاج ہو گئے۔ پانی سے نکال لئے گئے، کیمپوں میں پناہ گزیں ہونے کے بعد اب وہ مکمل طور پر حکومتوں اور مخیر حضرات کی مدد کے محتاج تھے۔ کوئی کھانا دے جائے گا، کوئی پانی پہنچا دے گا۔ اگر یہ کیمپ کسی ادارے نے لگائے تو وہ کسی حد تک ان کی ضرورتوں کی ذمہ داری بھی پوری کرتے رہے، مگر جو دور دراز کے علاقوں میں سیلاب میں پھنسے ہوئے تھے وہاں تک کسی کی رسائی نہ تھی، نہ ہی اُن کی فریاد کسی ذمہ دار تک پہنچتی تھی۔ پینے کے پانی کا مسئلہ تھا، واش رومز کا مسئلہ تھا۔ کسانوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ اُن کے مویشیوں کے چارے کا بھی تھا۔ یہ اندازہ صرف کسان ہی لگا سکتا ہے کہ اسے اپنی فصلوں اور مویشیوں سے کس قدر پیار ہوتا ہے۔
اب پانی اُترنے کو ہے، اپر پنجاب میں سیلاب تھم چکا ہے، جنوبی پنجاب میں مگر یہ نچلے درجے کی صورت میں جاری ہے، سندھ میں ابھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ پانی رکے گا، پھر اُترے گا، پھر لوگوں کے گھروں کو واپس جانے کے راستے بنیں گے، پھر وہاں اصل صورت حال معلوم ہوگی۔ تمام ارمان سیلابی پانیوں میں بہہ گئے۔ اب ان لوگوں کو ایک اور دریا کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اب کسانوں کی زمینوں کے سروے ہوں گے، اندازہ لگایا جائے گاکہ کس کا کتنا نقصان ہوا؟ کس کو کتنا معاوضہ دیا جائے گا؟ ہر ہر نقصان کے لئے الگ الگ معاوضہ طے کر لیا گیا ہے،مکان کی قیمت طے کر لی گئی ہے، مویشیوں کا حساب لگا لیا گیا ہے، فصلوں کی قیمت طے کر لی گئی ہے، گویا جس کا جتنا نقصان ہوا ہے وہ سروے کے بعد انہیں دے دیا جائے گا۔ مگر اپنے نظام کا کیا کیجئے کہ ایمان داری یہاں اکثر کے قریب سے بھی نہیں گزری، ہر کوئی یہی کوشش کرتا ہے کہ اسے زیادہ معاوضہ مل جائے، اگر کچھ لوگ اپنے اصل نقصان سے زیادہ لینے میں کامیاب ہو گئے تو یقیناً بہت سے لوگ اپنے اصلی نقصان کی وصولی سے بھی محروم رہیں گے۔
کرپشن کی صورت میں بھی ایک اور دریا تمام متاثرینِ سیلاب کے سامنے موجود ہے، مبینہ طور پر تھوڑا خرچ کرکے فائلوں کا پیٹ مصنوعی طریقوں سے بھرا جاتا ہے۔ کہا جا تاہے کہ خرد برد کا بھی سیلاب ہی ہے جو کہ ہر آفت کے بعد آتا اور تقسیم کرنے والوں کے نصیب سنوارتا ہوا گزر جاتا ہے۔ یہ محاورہ زبان زدِ عام ہے کہ سیلاب اور زلزلے جہاں متاثرین کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں وہاں حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی قسمت کھل جاتی ہے۔ وہ اپنا حصہ وصول کرنے میں ذرا بھی تاخیر سے کام نہیں لیتے۔ اب چونکہ بہت سا امدادی سامان متاثرہ علاقوں میں پہنچ رہا ہے، اُدھر سوشل میڈیا پر ٹرکوں کو سرِ عام لوٹنے کے مناظر بھی دیکھنے میں آرہے ہیں۔ یہ مت جانئے کہ یہ مستحق لوگ ہی سامان کے ٹرکوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں، بلکہ جو لوگ سیلابوں سے محفوظ رہے ہیں، یا جہاں بہت کم پانی آیا ہے، یہ وہاں کے لوگ ہیں، متاثرین تک سامان پہنچانے میں بڑی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ خوفِ خدا اور روزِ جزا کے بارے میں بعد میں سوچا جائے گا۔اس قدر بڑے سیلابوں کے بعد پوری قوم کو اجتماعی طور پر توبہ کی ضرورت تھی، مگر یہاں درندوں اور گِدھوں کی طرح ہر کوئی لوٹنے اور نوچنے پر آمادہ ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ کیا ہمارے رویے ہی سیلابوں کی وجہ تو نہیں؟؟