پلاسٹک سے پیراسیٹامول بنانے والا بیکٹیریا دریافت

سائنسدانوں نے ایک نیا طریقہ نکالا ہے جس کے ذریعے پلاسٹک کے کچرے کو عام درد کی دوا پیراسیٹامول میں بدلا جا سکتا ہے۔ یہ کام ایک خاص بیکٹیریا ای کولی (E.coli) کی مدد سے کیا گیا ہے۔

ایڈنبرا یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن ویلیس نے بتایا کہ انہوں نے ای کولی کو جینیاتی طور پر بدل دیا ہے تاکہ وہ پلاسٹک کے ایک کیمیائی حصے کو کھا کر اسے پیراسیٹامول میں تبدیل کر سکے۔ اس سے پہلے بھی یہی بیکٹیریا پلاسٹک سے ونیلا فلیور اور گندے پانی سے پرفیوم بنانے کے لیے استعمال کیا جا چکا ہے۔

ای کولی دنیا بھر میں دواؤں اور دوسرے بایوٹیکنالوجی کے کاموں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا بیکٹیریا ہے۔ یہ تیزی سے بڑھتا ہے، آسانی سے جینیاتی طور پر بدلا جا سکتا ہے اور بڑی مقدار میں بھی استعمال کے قابل ہے۔ اسی بیکٹیریا سے سب سے پہلی مصنوعی انسولین بھی بنائی گئی تھی جو شوگر کے مریضوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ای کولی بہت کارآمد ہے، لیکن دنیا میں دوسرے بیکٹیریا بھی موجود ہیں جو شاید اس سے بہتر کام کر سکیں۔ مثال کے طور پر ایک بیکٹیریا ویبریو نیٹریجینس ہے جو ای کولی کے مقابلے میں دوگنی رفتار سے بڑھتا ہے اور آسانی سے نئے جینیاتی تجربات قبول کر لیتا ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ایسے بیکٹیریا نہ صرف ادویات بلکہ ماحول دوست ایندھن، بجلی اور قیمتی دھاتیں بنانے میں بھی استعمال کیے جا سکیں گے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں