ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ امریکہ میں جنگلاتی آگ کے دھوئیں کی وجہ سے ہر سال تقریباً 41,000 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو 2050 تک جنگلاتی آگ امریکیوں کے لیے سب سے بڑا صحت کا خطرہ بن سکتا ہے، جو سالانہ اموات میں مزید اضافہ کرے گا۔
مطالعے کے مطابق، 2050 تک دھوئیں سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات میں سالانہ 26,500 سے 30,000 تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ تعداد شدید گرمی، فصلوں کی تباہی یا توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے ہونے والے نقصانات سے کہیں زیادہ ہے۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارشل برک نے کہا کہ جنگلاتی آگ کا دھواں صحت کے لیے اتنا بڑا خطرہ ہے جتنا کہ ہم پہلے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دھوئیں نے گزشتہ کئی دہائیوں کی صاف ہوا کی حالت کو خراب کر دیا ہے، خاص طور پر مغربی ریاستوں اور نیویارک جیسے شہروں میں۔
تحقیق میں سیٹلائٹ کے ذریعے دھوئیں کی نگرانی اور آب و ہوا کے ماڈلز کا استعمال کیا گیا تاکہ اس کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگلاتی آگ سے نکلنے والا دھواں ہوا کی صفائی کے لیے بنائے گئے قوانین کی کامیابیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔