ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں بچوں اور نوجوانوں میں ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ ایک خطرناک صورتحال کی طرف اشارہ ہے۔
یہ اضافہ خاص طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں دیکھا گیا ہے، جو ماضی میں زیادہ تر بڑی عمر کے افراد کو لاحق ہوتی تھی۔
طبی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 1990 سے 2021 کے درمیان دنیا کے 204 ممالک میں ذیابیطس کے کیسز تقریباً دوگنا ہو چکے ہیں، اس تحقیق میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ گلوبل برڈن آف ڈیزیز (جی بی ڈی) ڈیٹا بیس سے حاصل کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق 2019 میں دنیا بھر میں تقریباً 46 کروڑ افراد ذیابیطس کا شکار تھے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو 2045 تک یہ تعداد 78 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذیابیطس سے ہونے والی اموات میں کچھ کمی آئی ہے، جس کا سہرا بہتر علاج اور لوگوں میں آگاہی کو دیا جا رہا ہے لیکن کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ اب بھی ایک بڑی تشویش کی بات ہے، خاص طور پر جب یہ کم عمر بچوں اور نوجوانوں میں دیکھنے میں آ رہا ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بڑھتی ہوئی بیماری سے بچاؤ کے لیے والدین، اسکولوں اور حکومتوں کو مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔ بچوں کو صحت مند غذا فراہم کرنا، کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کو بڑھانا اور ذیابیطس کی علامات کے بارے میں شعور بیدار کرنا اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔
ذیابیطس ٹائپ 2 میں جسم انسولین کے اثرات کو پہچاننے میں ناکام ہو جاتا ہے اور انسولین بنانے والے خلیات بھی اتنی مقدار میں انسولین پیدا نہیں کر پاتے جتنی جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بیماری عام طور پر چالیس سال سے زائد عمر کے افراد کو لاحق ہوتی ہے، لیکن آج کل کے ناقص طرز زندگی کی وجہ سے اب نوجوان اور بچے بھی اس کا شکار بننے لگے ہیں۔