پاکستانی فوج کے افسرمیجر عدنان اسلم شہید کی نمازِ جنازہ راولپنڈی کے علاقے چکلالہ میں فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔
اس موقع پر وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (نشانِ امتیاز ملٹری، ہلالِ جرات) سمیت اعلیٰ عسکری و سول قیادت، دیگر اہم شخصیات اور شہید کے لواحقین کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 31 سالہ میجر عدنان اسلم، جو راولپنڈی کے رہائشی تھے، 2 ستمبر کو خیبر پختونخواہ کے علاقے بنوں میں دہشتگردوں کے بزدلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ انہیں فوری طور پر سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کیا گیا، جہاں کئی روز تک زیرِ علاج رہنے کے بعد وہ شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ میجر عدنان اسلم نے بہادری اور جرات کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی قیادت و وطن سے وفاداری کا شاندار ثبوت دیا۔ شہید کی قربانی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ پاک فوج ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے مشن پر پوری ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے نمازِ جنازہ کے بعد گفتگو میں کہا کہ آج پاکستان نے ایک بہادر سپوت کھو دیا ہے، جس کی قربانی اور جرات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میجر عدنان اسلم پاکستان کے اصل تشخص کی پہچان ہیں، جنہوں نے وطن سے محبت، عزم اور ناقابلِ شکست جذبے کی ایک روشن مثال قائم کی۔
شہید کی تدفین ان کے آبائی علاقے میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ کی جائے گی، جہاں ان کے ساتھی افسران، جوانوں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔