سیلاب: پنجاب میں 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر، 30 افراد جاں بحق

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے حوالے سے تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں 15 لاکھ 16 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 2 ہزار 308 موضع جات سیلاب کی زد میں آئے ہیں۔

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق، چار لاکھ 81 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں 511 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 351 میڈیکل کیمپس اور 321 ویٹرنری کیمپس بھی قائم ہیں، جہاں اب تک چار لاکھ پانچ ہزار مویشیوں کو منتقل کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، دریائے چناب میں مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 11 ہزار کیوسک، خانکی پر ایک لاکھ 70 ہزار، قادرآباد پر ایک لاکھ 71 ہزار اور ہیڈ تریموں پر ایک لاکھ 46 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے راوی میں جسڑ پر 78 ہزار، شاہدرہ پر ایک لاکھ 38 ہزار اور بلوکی پر ایک لاکھ 99 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر تین لاکھ تین ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک بہاؤ موجود ہے۔

پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ منگلا ڈیم 80 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکا ہے، جبکہ بھارت کے بھاکڑا ڈیم میں پانی کی سطح 84 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

ریلیف کمشنر کے مطابق، حالیہ سیلابی صورتحال میں اب تک 30 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ لاہور میں آسمانی بجلی گرنے سے مزید دو اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شہریوں اور کسانوں کے نقصانات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔
ادھر گزشتہ 24 گھنٹوں میں منڈی بہاؤالدین میں 81 ملی میٹر، حافظ آباد میں 63 ملی میٹر، جہلم میں 50 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 47 ملی میٹر اور لاہور میں 26 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق، مون سون کا نواں اسپیل جاری ہے اور بارشوں کا یہ سلسلہ 2 ستمبر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں