ٹرمپ – پیوٹن ملاقات: امن یا سفارتی تماشا؟

دنیا کی سیاست میں ایک بار پھر امریکی ریاست الاسکا عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ ایک طرف ٹرمپ دنیا بھر پر ٹیرف لگارہے ہیں دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پچھلے چند ماہ سے خود کو ایک امن پسند کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی حالیہ کاوشیں مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل و غزہ کے درمیان جنگ بندی کی تجویز، چین اور تائیوان کے تناؤ میں ثالثی کی پیشکش، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی، ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے صاف کرنے کے دعوے، اور سب سے بڑھ کر روس-یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات شامل ہیں۔ ٹرمپ بار بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ یوکرین جنگ چوبیس گھنٹے میں ختم کر سکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی 15 اگست کو الاسکا کے شہر انکرج میں ہونے والی ٹرمپ – پیوٹن ملاقات ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملاقات امن کی طرف پیش قدمی ہے یا محض ایک سفارتی تماشا؟ دنیا ٹرمپ کے ان اقدامات کو کس نظر سے دیکھتی ہے؟ عالمی ماہرین ٹرمپ-پیوٹن ملاقات پر کیا رائے رکھتے ہیں؟

یہ پہلا موقع تھا کہ 2022 میں جنگ شروع ہونے کے بعد ولادیمیر پیوٹن کو کسی مغربی سرزمین پر مدعو کیا گیا۔ اجلاس Joint Base Elmendorf–Richardson پر ہوا، جہاں پیوٹن کو سرخ قالین اور امریکی F-22 طیاروں کے پروٹوکول کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا۔ ملاقات تین گھنٹے جاری رہی لیکن کوئی تحریری معاہدہ یا امن فارمولا سامنے نہ آیا۔ٹرمپ نے اجلاس کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا اور عندیہ دیا کہ آئندہ بات چیت میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ لیکن اس بارے میں عالمی ماہرین الگ ہی رائے رکھتے ہیں۔ دی گارڈین کے مطابق اجلاس زیادہ تر علامتی تھا، جس نے پیوٹن کو اقوام عالم کے سامنے اپنا موقف رکھنے کیلئے نئے سے سے موقع فراہم کیا۔ ایک اور بین الاقوامی نشریاتی ادارے ای پی نیوز نے اس ملاقات کو ٹرمپ کیلئے خالی ہاتھ اجلاس کہا، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دعوے میں ناکام خالی ہاتھ لوٹے ہیں۔ ٹائم میگزین کے نزدیک الاسکا کا انتخاب سفارتی اور جغرافیائی طور پر علامتی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن اگر یہ انتخاب کسی بھی طور مغرب کے حق میں ہوتا تو ولادیمیر پیوٹن شاید مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کر دیتے۔ روسی تجزیہ کار اس ملاقات کو پیوٹن کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ یوکرینی ماہرین کا ردعمل بھی سخت رہا۔ انہوں نے اس ملاقات کو پیوٹن کو امن مذاکرات کیلئے قائل نہ کر پانے کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ناکامی اور پیوٹن کی بلا وجہ عزت افزائی کہا ہے۔

میرے نذدیک یہ اجلاس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں اصل فیصلوں سے زیادہ تاثر کی اہمیت ہوتی ہے۔ پیوٹن کو امریکی سرزمین پر مدعو کر کے ٹرمپ نے ایک علامتی کامیابی ضرور حاصل کی، چاہے معاہدہ نہ ہوا ہو۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دنیا کے طاقتور ممالک اکثر سفارت کاری کو طاقت کے مظاہرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ تاہم براہ راست فریق یوکرین کا کوئی زمہ دار اس ملاقات میں شامل نہیں کیا گیا جس نے واضح کیا کہ براہِ راست فریق کے بغیر مذاکرات بے معنی ہیں۔ ہمارے لیے یہ سبق اہم ہے، کیونکہ ہماری تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیر جیسے تنازعات میں اصل فریق کو نظرانداز کر کے کیے گئے مذاکرات کبھی پائیدار نتائج نہیں دے سکے۔

پاکستان اکثر عالمی طاقتوں کے کھیل میں محض ناظر یا اتحادی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ لیکن الاسکا ملاقات اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک اپنی خودمختار اور متوازن پالیسی اپنائے بغیر عالمی سیاست میں بامعنی کردار ادا نہیں کر سکتے۔

یوکرین جنگ نے عالمی توانائی کی قیمتوں کو بڑھایا، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر پڑا۔ اگر ٹرمپ کی امن کوششیں کامیاب بھی ہوتیں تو سب سے بڑا فائدہ ان ہی ممالک کو ہوتا جن کی معیشت توانائی درآمد پر انحصار کرتی ہے۔ یہ پاکستان کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں توانائی کے متبادل ذرائع اور علاقائی تعاون کو ترجیح دے۔

الاسکا اجلاس وقتی طور پر دنیا کی توجہ ضرور حاصل کر گیا لیکن امن کے حقیقی امکانات ابھی بہت دور ہیں۔ ٹرمپ کی امن ساز کوششیں اس وقت تک محض دعوے ہی رہیں گی جب تک وہ تمام فریقین کو ایک میز پر نہیں لاتے۔ پاکستانی ہونے کے ناطے ہمارے لئیے یہ اہم ہے کہ ہمیں عالمی سیاست میں اپنی جگہ محض تماشائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک فعال کھلاڑی کے طور پر بنانی ہوگی۔ اس کے لیے خودمختار خارجہ پالیسی، متوازن تعلقات، اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ہم ہمیشہ طاقت ور ممالک کے کھیل تماشے کے تماشائی ہی رہیں گے۔

باہر تو یہی لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دعوے ولادیمیر پیوٹن سے اس طرح سے پورے نہیں کروا سکے جس طرح انہوں نے بھارت – پاک جنگ کے دوران اور ایران – اسرائیل جنگ کے دوران دونوں فریقین سے کروائے تھے اور خود کو امن کے نوبل انعام کا مستحق قرار دیتے پھرتے تھے۔ اس ملاقات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ خواہ کوئی ملک جتنا بھی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرتا ہو یا کسی بڑی جنگ کا حصہ ہو ، اگر اس کی خارجی و دفاعی پالیسیاں آزاد ہیں تو وہ کسی بھی شخصیت یا قوت سے مرعوب نہیں ہو سکتا۔ ولادیمیر پیوٹن نے مغرب کی سرزمین پر ٹرمپ کو جس طرح گولڈن ہینڈ شیک دیا ہے ، اس داغ کو مٹانے کیلئے ٹرمپ کو بہت سارا زور لگانا پڑ سکتا ہے۔ میڈیا ٹرائلز ہی ٹرمپ کو اپنی قوم کے سامنے گرا سکتے ہیں۔ تاہم یوکرین – روس تنازعہ ختم ہونے سے بالواسطہ پاکستان کی اقتصادی و معاشی حالت کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گا، لیکن فی الحال ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے امن کے نوبل میڈل تک رسائی کیلئے بڑے چیلنجز باقی ہیں۔ جہاں ٹرمپ نے سفارتی کاوشوں سے اپنا ایک تاثر دینے کی کوشش کی ہے وہیں ملاقات بے نتیجہ ہونے پر ان کے نام بڑی ناکامی بھی لکھی گئی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں