چائے؛ ذکر اس پری وش کا

کچھ دن پہلے ایک میسج موصول ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ وہ چائے کا عالمی دن ہے، اور میسج بھی اس عزیز رفیقِ کار کی طرف سے آیا جس کے ہاتھوں سے ہر روز بہترین چائے پینے کو ملتی ہے جو تدریسی عمل میں آخر تک تر و تازہ رکھتی ہے۔ یوں تو ہر دن کو کسی اہم کام کے لیے منایا جا رہا ہوتا ہے جس میں متعلقہ افراد شریک ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن چائے کا دن ہو اور ہم چپ بیٹھے رہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے، جبکہ ہم نے تو چائے کی شان، تاریخ، تہذیب، کلچر اور اس کے انداز و اطوار پر ایسی ایسی کتاب جمع کر رکھی ہے کہ باید و شاید لیکن اس روز عجلت میں یہی سوچا کہ چائے پر صرف کچھ پرانے شذرات جمع کر کے اُس مشروب کو خراج تحسین پیش کروں جو سفر و حضر اور صحت و مرض ہر حالت میں ایک بہترین ہمدرد اور مُونِس ثابت ہوتا چلا آ رہا ہے۔ لہذا کچھ بکھرے ہوئے شذرات پیش خدمت ہیں جن پر جلدی میں الگ الگ تاریخ درج نہیں کی جا سکی ہیں :

آج کل چائے پر ایک انگریزی کتاب بہت انبساط سے پڑھ رہا ہوں، جس پر کچھ لکھنے کا بھی عزم ہے بلکہ عزم مصمم ہے۔

لیکن حالیہ دنوں میں بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ نے متوجہ کیا کہ امریکہ و برطانیہ میں چائے میں نمک ڈالنے کے مسئلے پر ٹھن گئی ہے اور بات سفارتی بیانات اور وضاحتوں تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے یاد آیا کہ اگرچہ ہمارے یہاں کے طور اطوار زیادہ تر تاجِ برطانیہ کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں لیکن گاؤں میں اپنے بچپن میں ہم نے ہمیشہ میٹھی چائے نمک کے اضافے کے ساتھ ہی پی ۔ اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا تھا کہ چائے نمک کے بغیر بھی اچھی لگ سکتی ہے۔ جب ہم شہر میں آ گئے اور ایک روز شہر کے ایک بڑے تاجر والد صاحب سے ملنے آئے اور ان کو چائے پیش کی گئی تو پہلا گھونٹ بھر کر ہی کہنے لگے کہ چائے میں نمک بھی ڈالا ہوا ہے؟ والد صاحب نے اثبات کیا لیکن میں جو بمشکل سات آٹھ سال کا ہوں گا حیران ہوا کہ کیا چائے نمک کے بغیر بھی ہوتی ہے؟ اس کے بعد معلوم نہیں کہ کس وقت ہمارے گھر میں بھی نمک کے بغیر چائے بننے لگی جو یقینا شہری مہمانوں کی میری مزعومہ بدذوقی کا ہی کیا دھرا ہو گا۔

اب امریکہ اور برطانیہ کے اس جھگڑے نے وہ یاد تازہ کر دی اور دو اڑھائی دہائیاں پرانا وہ ذائقہ زبان پر لوٹ آیا۔ لہذا اب کچھ دنوں سے اپنے مہربان ڈاکٹر صاحب سے خفیہ خفیہ ہی میٹھی چائے کے کپ میں چٹکی بھر سے کچھ کم نمک ڈال کر پی رہا ہوں اور ایک انوکھے ذائقے کا لطف اٹھا رہا ہوں۔ یہ ایسا ذائقہ بنتا ہے جس کا بیان شاید ممکن نہ ہو۔

بھئی بھاڑ میں جائے دو عالمی طاقتوں کی لڑائی اور ان میں سے کسی ایک کا حق پر ہونا۔ ہم نے فروٹ چاٹ میں سے چٹکی بھر نمک کم کر کے وہی نمک چائے کے کپ میں ڈالنا شروع کیا ہوا ہے اور عالمی طاقتوں کے محاذ سے بے خبر اس انوکھے ذائقے سے دوبارہ آن ملے ہیں جو قبلہ والد مرحوم کا بھی اکثر عمر پسندیدہ ذائقہ رہا، یعنی شہری مہمانوں کی خوشنودی کا لحاظ رکھنے سے پہلے تک۔

یاد پڑتا ہے کہ ایک عرصے تک ہوٹلوں کی کڑک چائے نے اپنا گرویدہ کیے رکھا لیکن یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہی پتی اور وہی دودھ جب گھر میں چائے میں تبدیل ہوتا ہے تو وہ والا ذائقہ کیوں نہیں آتا۔

پھر ہوٹلوں کا بھی یہ ہوا کہ جب ایک بار کراچی کے ہوٹلوں سے چائے پی لی تو اس کے بعد باقی جگہوں کی چائے بیکار لگنے لگی۔ پھر دل ہی دل میں یہ طے کر لیا کہ افغانی حضرات کے ہوٹلوں پر چائے اچھی ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ انار کلی کے پاس مدینہ ہوٹل کی چائے دل پر حکمران رہی۔ پھر لاہور میں کوئٹہ کیفے کے نام سے جو ہوٹل کھلے ہوئے ہیں ان میں سے چند ایک پر اچھی چائے مل جاتی ہے لیکن اس کے لیے خصوصی ہدایات دینا پڑتی ہیں۔

تاہم مسئلہ وہی رہا کہ ایسی چائے گھر پر کیسے بنے۔ یہ مسئلہ حسن اتفاق سے یوٹیوب سے حل ہو گیا جو اب تک یہاں سے حل ہونے والا واحد مسئلہ ہے۔ بس اس کے بعد یہاں وہاں پر جگہ بتا دیا گیا کہ مجھے چائے پلانی ہو تو یوں بنا کر پلائی جائے۔ایک عرصے تک اس ریسیپی کو انجوائے کیا جو قرب و جوار میں سب کو ازبر بھی ہو گئی۔ مگر ایک روز یوں ہوا کہ ایک مہربان ڈاکٹر نے چائے پلائی تو ایسی شاندار لگی کہ میں نے ریسپی ہی پوچھ لی۔ صرف ریسپی نہیں بلکہ چائے کا برانڈ بھی۔ اس کے بعد چند بار گھر پر اس ترکیب سے چائے بنی جو دو چار بار کے تجربے کے بعد راہ راست پر آ گئی۔ سو اب ہم گھر پر بہت ہی کم مقدار میں دودھ، مناسب سی مٹھاس، ایک عدد سبز الائچی اور چٹکی بھر سے کچھ کم سونف والی چائے پیتے ہیں جس کی ترکیب یوں ہوتی ہے کہ پہلے دودھ اور پانی کو مکس کر کے ایک ابال دلوایا، پھر الائچی، سونف اور اچھی سی چائے کا ایک چمچ فی کپ کے حساب سے ڈال کر اچھی طرح چائے کا رنگ نکالا اور ابال دلوائے اور چائے مکمل تیار ہونے کے بعد مٹھاس شامل کر کے اکیلے میں سڑک سڑک کر اور سرِ محفل سائلنٹ موڈ پر لگ کر پیتے جاتے ہیں۔ اور تو اور ایک دو چھوٹے چھوٹے تھرماس بھی لے لیے ہیں جن میں گھر سے باہر جاتے وقت بعض اوقات گھر کی چائے ہی ساتھ رکھ لی جاتی ہے۔

۔کوئٹہ دربار کے نام سے موسوم، مگر افغانی چائے خانے لاہور کے کلچر میں ایک خوبصورت اضافہ ہیں ورنہ اچھے اور نسبتا صاف و کشادہ چائے خانے تو اس شہر سے معدوم ہی ہوا چاہتے تھے اور ان کی جگہ جگرِ لخت لخت کے اجزا کو جمع کیے بغیر ہی بنائی گئی بدیسی اور بدمزہ بلکہ اپنے حساب سے تو بھائی مضر صحت چائے ہی ہر طرف عام ہوتی جا رہی تھی۔ نہ جانے ایک معروف، مرحوم لکھاری نے کن زمانوں میں لکھا تھا کہ لاہور میں اب مال روڈ پر اچھی چائے صرف چیئرنگ کراس کے پاس ایک ہوٹل میں ملتی ہے۔ مگر ہمیں تو وہاں سے بھی کبھی نہ ملی ۔ لہذا ایسا لگتا ہے کہ جگہ جگہ افغانی کڑک چائے کی یہ دکانیں لاہور ہی تہذیب کے لیے اور چائے کے عاشقوں کے لیے تازہ کمک کی مانند ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک تحقیق کے اثر (یا بہکاوے) میں آ کر چائے کے مبینہ نقصانات سے بچنے کے لیے ایک دو دن اسے ترک کیے رکھا اور دیگر انواع و اقسام کے پھولوں کی چائے تیار کروا کروا کر لطف لیتا رہا لیکن سچی بات ہے کہ دل و دماغ نے دو دن بعد ہی ہتھیار ڈال دیے اور یہ رائے بنا لی کہ چائے تو درد اور تکلیف کا ایسا ساتھی ہے جس کے فوائد کو التفاتِ خاص اور نقصانات کو ناز و نخرے کا نام دینا چاہیے مگر بالکلیہ ترک نہیں کر بیٹھنا چاہیے۔

دماغ بجھا بجھا سا ہو اور طبیعت بقولِ میر غنچے کی مانند ہو کر رہ جائے اور کسی طرح کِھلنے کا نام نہ لیتی ہو تو چائے کا کپ اٹھائیے اور اویس رضا قادری کی زبانی سیدی اعلی حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کی نعتیں سنیے، خصوصا وہ نعتیں جو کسی محفل میں پڑھی گئی ہوں تو دیکھیے گا کہ ‘جب یاد آ گئے ہیں، سب غم بھلا دیے ہیں’ کا مصرع کیسے مجسم ہو کر آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔

باقی، باقی!

بس چائے آباد رہے، جس کے دم سے ہم آباد ہیں۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں