( عامر خاکوانی کی صحافتی یاداشتیں، تیسری قسط)
روزنامہ جنگ لاہور کا نیوز روم فرسٹ فلور پر واقع تھا، اس کے ساتھ مختصر سی گیلری اور پھر بغل میں رپورٹنگ سیکشن ۔ نیوزروم کے عقب میں اور پھر دوسری طرف ایڈیٹر نیوز اور ایڈیٹوریل کمیٹی کے چیئرمین کے کمرے تھے۔ رپورٹنگ سیکشن کے ساتھ ایڈیٹر رپورٹنگ کا کمرہ تھا، چیف رپورٹر البتہ رپورٹنگ سیکشن ہی میں بیٹھتا تھا۔ نیوز روم کے ساتھ کمپیوٹر سیکشن تھا، جہاں خبریں کمپوز ہوتیں، ڈیزائن بنتے اور امیج سیٹر پر فلم بنا کرتی جو بعد میں پرنٹنگ کے لئے بھیجی جاتی۔
نیوزروم کے وسط میں ایک گول میز تھی ، درحقیقت تو وہ نیم گول میز تھی۔ درمیان میں ایک پلر تھا جس سے ٹیک لگا کر شفٹ انچارج بیٹھتا جبکہ اس کے سامنے اوردائیں بائیں وہی گول میز تھی جہاں سات آٹھ سب ایڈیٹر بیٹھ کر خبریں بناتے ۔
مرکزی گول میز سے جدا نیوز روم کے مختلف کونوں میں الگ الگ ٹیبلز تھی جہاں دو دو تین تین سب ایڈیٹر بیٹھا کرتے اور ان کی مختلف ذمہ داریاں تھیں۔ مین گول میز پر اخبار کے مرکزی صفحات جیسے فرنٹ اور بیک پیج بنا کرتے ۔تب اخبار کے سولہ صفحات تھے، مگر روایتی طور پر اسے” ایک آٹھ “کہا جاتا تھا ، ایک یعنی فرنٹ، آٹھ یعنی بیک پیج، چونکہ باقی آٹھ صفحات ایڈیٹوریل اور کلر ایڈیشنز وغیرہ تھے۔آج کل تو ویسے اخبار لاہور کراچی اسلام آباد جیسے شہروں میں ٹوٹل آٹھ صفحات اور دیگر شہروں میں چھ صفحات پر مشتمل ہے۔
نیوز شفٹ چلانے والے شفٹ انچارج یا نیوز ایڈیٹر کے سامنے گول میز سے باہر سٹی ڈیسک تھا، جہاں تین سب ایڈیٹر مع سٹی ایڈیٹر بیٹھا کرتے۔ ان کے ساتھ ہی شیشے کا کمرہ تھا جہاں چار پانچ کاپی پیسٹر بیٹھتے۔ تب اخبار کی کاپی جڑا کرتی تھی، مختلف خبریں پیسٹ کی جاتیں اور پھر ان کی فلم بنتی۔ آج کل یہ کام پیج میکرز کرتے ہیں۔ کاپی پیسٹرز میں سے ایک دو کاتب بھی ہوتے جو شہ سرخی یعنی لیڈ کی کتابت کرتے۔
نیوز روم کی ایک سائیڈ میں لمبی سی خمیدہ میز تھی جہاں پر دو تین ڈسٹرکٹ نیوز ایڈیٹرز وغیرہ بیٹھتے تھے، ان میں مضافات ایڈیشن بھی تھا یعنی گوجرانوالہ سیالکوٹ وغیرہ۔ ملتان کے لئے تب اخبار لاہور ہی سے تیار ہوتا، اسے سکس سٹار کہا جاتا، لاہور کا لوکل اخبار سیون سٹآر کہلاتا۔ فائیو سٹآر اور فور سٹار بھی مختلف دوردراز شہروں کے لئے تیار ہوتے، ان کے اندرونی پیجز بھی انہی ڈیسک پر تیار ہوتے جبکہ فرنٹ بیک پیجز ڈے شفٹ والے شام پانچ چھ بجے تک بنوا کر چلے جاتے ۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں نیوزروم میں گیا تب بیدار بخت بٹ شفٹ چلاتے تھے ۔سینئر آدمی تھے، رعب دار پرسنالیٹی کے مالک، سرخ چہرہ ،اڑے آڑے سے گھنگھریالے بال، گھنی مونچھیں، منہ میں پان دبا ہوا، تیز گھورتی آنکھیں، کاٹن کا کلف والا سوٹ پہنتے ۔ خاصا رعب ودبدبہ تھا، کسی کی مجال نہیں تھی کہ سامنے بول سکتا۔ ان کے بعد سینارٹی میں اکبر عالم آتے تھے۔ وہ “کو شفٹ انچارج “تھے اور بیدار بخت بٹ کی چھٹی والے دن شفٹ چلاتے۔ روزنامہ امروز سے آئے تھے، پختہ پکا رنگ ، اردو سپیکنگ ، تجربہ کارآدمی تھے، ساکھ بھی اچھی تھی۔ بعد میں وہ بھی ق لیگ کے میڈیا سیل میں چلے گئے، جم نہیں سکے اور پھر انہیں الگ ہونا پڑا۔آخری برسوں میں ایکسپریس اخبار میں کالم بھی لکھتے رہے مگر بطور کالم نگار شناخت نہ بن سکی۔ چند سال پہلے انتقال کر گئے ہیں۔
اکبر عالم کے بعد طارق جاوید صاحب تھے، عینک پہنے سمارٹ سے طارق جاوید صاحب کی مسکراتی آنکھیں،مونچھیں تلے زیرلب مسکراہٹ اور شائستہ انداز واطوار آج بھی یاد ہیں۔ بہت بھلے مانس اور لائق آدمی تھے، افسوس کہ جلد چلے گئے۔
ہمارے اسلم ملک صاحب بھی مین شفٹ ہی میں تھے، اپنی مخصوص کرسی پر وہ بیٹھتے ، سب سے پہلے نیوز روم میں آتے اور بغور اخبارات کی فائل کا مطالعہ کرتے۔ ان کی میموری شارپ تھی اور نظر عمیق ۔ انہیں ہر خبر کا علم ہوتا کہ کہاں چھپی ہے یا نہیں چھپی۔ نیوز روم میں اسلم ملک صاحب کو ان کی صاف گوئی اور جرات آمیز گفتگو کے باعث کئی سینئرز ناپسند کرتے تھے، مگر ملک صاحب اپنی قابلیت کے زور پر ٹکے ہوئے تھے۔ بہت سینئر سب ایڈیٹر تھے، امروز میں خاصا عرصہ گزار کر آئے تھے،جنگ میں بھی کئی سال ہوگئے تھے۔ ملک صاحب سینئر ہونے کے باوجود نیوز ایڈیٹر کی لائن سے نکل چکے تھے، انہیں اس عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
طارق جاوید صاحب کے بعد دو سب ایڈیٹرز نمایاں تھے جو بعد میں جنگ اور دیگر جگہوں پر شفٹ ہولڈ کرتے رہے۔ ایک سعید چودھری ، یہ ہمارے ساتھ ہی ایکسپریس اخبار میں چلے گئے تھے، نیوز ایڈیٹر بن کر ، آج کل ایکسپریس چینل میں ہیں۔ دوسرے ندیم نثار ، یہ بھی اچھے سب ایڈیٹر تھے، خاموش طبع ، سنجیدہ اور متین۔ طارق جاوید صاحب کے ساتھ ان کی جوڑی تھی، رات دو بجے شفٹ ختم ہونے کے بعد دونوں اکھٹے روانہ ہوتے۔ندیم نثار نیوز ایڈیٹر ہوگئے تھے، بعد میں کچھ مسائل کے پیش نظر جنگ چھوڑ دیا، دنیا ٹی وی جوائن کر لیا، آج کل روزنامہ دنیا کے ایڈیٹر ہیں۔
اسحاق شاکر صاحب بھی مین شفٹ پر تھے، یہ جنگ فورم کے انچارج بھی رہے اور اب نیوز روم میں تھے، آج کل وہ جنگ کے نیوز ایڈیٹر یا چیف نیوز ایڈیٹر ہیں۔ سہیل جاوید بھی اچھے سب ایڈیٹروں میں تھے، بعد میں انہیں اوپر آنے کے مواقع بھی ملے۔ وہ بھی جلد دنیا سے چلے گئے۔ ملک فیض بخش صاحب بھی تھے، مظفر گڑھ سے تعلق، پڑھے لکھے آدمی تھے۔ ممتاز شیعہ عالم دین مفتی جعفر حسین نجفی کی اکلوتی صاحبزادی کے خاوند تھے ، شیعہ حلقوں میں انہیں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھامگر معتدل آدمی تھے، معروف صوفی، ادیب اور شاعر وجیہہ السیما عرفانی صاحب سے بیعت تھے جو ایک سنی تھے۔ ملک فیض بخش سے میرا بعد میں بھی بڑا اچھا تعلق رہا، ایکسپریس ، دنیا اور نائنٹی ٹو نیوز میں ہم ساتھ ہی رہے ۔ چند سال قبل انتقال کر گئے ہیں۔
یہ بتانا بھول گیا کہ نیوز روم کے اندر ہی سے ایک دروازہ ایک شیشے کے چھوٹے کمرے میں کھلتا تھا، جہاں سی این ای یعنی چیف نیوز ایڈیٹر بیٹھتا تھا۔ وہیں پر ایک سب ایڈیٹر کی ڈیوٹی لگتی جو سی این اے کی ہدایات پر نیٹ سے خبریں وغیرہ نکالتا ۔ مشہور عالمی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی سروس بھی وہیں پر تھی۔ اے ایف پی کی خبریں ٹیلی پرنٹر پر گھوں گھوں کی آواز کے ساتھ آتیں۔ اے ایف پی کی خبر کو پڑھنا بھی خاصا مسئلہ تھا کیونکہ اکثر فقرے کے آخری الفاظ آگے پیچھے ہوجاتے۔
تب جنگ کے سی این ای خاور نعیم ہاشمی تھے۔ یہ بعد میں برسوں جیو کے بیورو چیف بھی رہے۔ پرانے مساوات کے دور کے صحافی تھے، ان کی وجہ شہرت یہ بھی تھی کہ جنرل ضیا کے مارشل لا میں جن چار صحافیوں کو کوڑے لگے، ان میں سے ایک خاور نعیم ہاشمی بھی تھے۔ ان کے والد نعیم ہاشمی مرحوم معروف فلم اداکار تھے، انہوں نے فلمیں بھی بنائیں۔ خاور صاحب کے مزاج میں بھی ایک خاص انداز کی رومانویت تھی، سج دھج کر آتے ، خوبصورت کوٹ، دلکش ہیرسٹائل ، قلمیں سٹائلش۔ اچھی پرسنالیٹی تھی اور دوسروں سے مختلف اور نرم مزاج ۔ جنگ کے ماحول میں ایسے سینئرز غنیمت تھے۔
نیوز روم میں تیز متحرک اور اکثر سینئرز کا لاڈلا سب ایڈیٹر ناصر کھرل بھی تھا،اب شائد وہ امریکہ ہے۔ عثمان بن احمد بھی نیوز روم ہی میں تھے، اب یاد نہیں کہ کیا ذمہ داری تھی۔ ایک نوشاہی صاحب تھے، انتقال ہوگیا۔ ان کی ذمہ داری سلگ (Slug)پر تھی۔ وہ خبریں کمپیوٹر سیکشن میں بھجواتے اور واپسی پر ان کی چیکنگ وغیرہ کراتے۔ جنگ میں یہ بھی بڑے رولے تھے، ہر چند دن بعد انکوائری شروع ہوجاتی کہ فلاں خبر کیوں نہیں لگی، فلاں کیوں لگی وغیرہ وغیرہ۔ اس لئے وہاں خبروں کا مکمل ریکارڈ رکھا جاتاتھا۔
سٹی ڈیسک پر شیخ ندیم سٹی ایڈیٹر تھے، ان کے ساتھ اے ڈی راشد تھے، بعد میں وہ ایل ایل بی کر کے وکالت کی طرف چلے گئے، آج کل شائد انگلینڈ میں ہیں۔ اے ڈی راشد کا تعلق شائد گوجرانوالہ سے تھا، سمارٹ اور شائستہ نسبتاً جوان آدمی تھے۔ ایل ایل بی کر رہے تھے، مجھے اکثر کہتے کہ تم نے لا کیا ہوا ہے، وکالت کرو، ادھر صحافت میں کیوں پھنس گئے ہو۔
مضافات ایڈیشنز میں سید تاثیر مصطفیٰ تھے، یہ پنجاب یونیورسٹی ماس کمیونکیشن کے گولڈ میڈلسٹ تھے، جنگ کے ابتدائی برسوں سے یہاں آئے، انہیں میگزین انچارج بھی بنایا گیا مگر بوجوہ تاثیر مصطفیٰ چل نہ پائے یا کامیاب نہیں ہوئے۔ تب وہ نیوز روم میں کھڈے لائن لگے تھے، راکھ کا ایک ڈھیر جس میں نیچے کہیں سلگتی چنگاریاں ہوں گی۔ بعد میں صحافت چھوڑ کر وہ تدریس کی طرف آئے اور شائد منہاج یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے سربراہ بن گئے۔ اب انتقال کر چکے۔
جی آر اعوان بھی پہلے ڈاک ایڈیشنز میں تھے، پھر سٹی پر آگئے۔ نہایت شریف النفس ، دیانت دار بھلے مانس ۔ اچھے لکھاری تھے۔ چناب نگر(ربوہ)کے رہنے والے تھے، اپنے تجربات، مشاہدات پر مبنی قادیانیت پرایک کتاب شیشوں کا مسیحا کے نام سے لکھی تھی،کتاب بعد میں آوٹ آف پرنٹ ہوگئی۔ایک کتاب اپنے صوفی مرشد آفریدی صاحب پر بھی لکھی۔ کشف المحجوب کی تسہیل بڑی محنت سے لکھی۔ وہ پیرکرم شاہ صاحب کے صآحبزادے نے اپنے اشاعتی ادارے ضیا القرآن سے چھاپی ، ان کے ایک بیٹے اعوان صاحب کے کلاس فیلو تھے، بدقسمتی سے اس نے کتاب تو چھاپ لی اور پھر وعدے کر کے بھی پھوٹی کوڑی رائلٹی کی نہ دی۔ اعوان صاحب بعد میں کسی حد تک تشیع کی طرف مائل ہوگئے، سیدنا حسین پر انہوں نے کتاب بھی لکھی تھی۔ آخری برسوں میں وہ نوائے وقت کے میگزین انچارج ہوگئے تھے۔
جی آر اعوان کے دوست یاور عباس صاحب بھی ڈسٹرکٹ نیوز سیکشن میں تھے۔ یاور صاحب بھی بہت شریف اور بھلے آدمی تھے۔ ارشد جیلانی جو بعد میں سہیل وڑائچ کے ساتھ وابستہ ہوگئے، وہ بھی تب نیوزروم میں تھے۔ ایک بہت سینئر سب ایڈیٹرسلیم اختر تھے، جنہیں سب استاد سلیم اختر کہا کرتے۔ یہ جنگ کے ابتدائی برسوں کے تھے اور اب ایک طرح سے عبرت کی مثال بن چکے تھے۔ ہمیں سمجھاتے کہ یہ جنگ والے قدرشناس نہیں، میں نے تیس سال جنگ کو دئیے ہیں، دیکھو کیا حال ہے میرا، جیسے ہی اچھا موقعہ ملے چلے جانا۔
انہی مضافاتی، ڈسٹرکٹ ڈیسک پر ایک زبیر صاحب تھے جو ہر ایک کو باس کہہ کر مخاطب کرتے، انہیں بھی ہر کوئی باس کہتا۔ یہ بھی جنگ کی ناقدری کے شدید شاکی تھے۔ بارہ تیرہ برسوں سے وہاں پر تھے، ابھی تک کانٹریکٹ چل رہا تھا۔ خبر بناتے اور کوئی اعتراض کرتا تو کہتے کہ اتنے پیسوں میں یہی کام ہوسکتا ہے۔ گھنگھریالے بالوں والے جہانگیر صاحب بھی تھے ، یہ لاہور پریس کلب کے سیکرٹری بھی رہے، خاصا متنازع دور رہا ان کا۔ شاہد جاوید ڈسکوی تب نوجوان سب ایڈیٹر تھے، کبھی سلگ پر اور کبھی کوئی دوسری ذمہ داری انہیں مل جاتی۔ یہ جنگ کی نائٹ شفٹ تھی۔ ڈے شفٹ میں محترمہ فرح وڑائچ شفٹ انچارج تھیں، عبدالرحمن جامی صاحب، مقبول جہانگیر کی بیوہ عبنرین مقبول اور ایک دو دیگر لوگ کام کرتے تھے۔ میں نے کبھی ڈے شفٹ میں کام نہیں کیا تو زیادہ یاد نہیں۔
اس ماحول اور ان تمام جگہوں پر ہم پانچ نوجوان بھی ایڈجسٹ ہوگئے یا کہ لیں کہ سما گئے۔ کوئی مین شفٹ پر چلا گیا، کسی کی ذمہ داری اندر سی این ای کے ساتھ لگ گئی، مجھے سٹی ڈیسک پر بھیج دیا گیا، انور خان ڈسٹرکٹ نیوز سیکشنز میں چلا گیا۔ غلام محی الدین کچھ دن مین پر رہا، پھر دو تین ماہ ٹی وی مانیٹرنگ میں چلا گیا، پھر مین ڈیسک پر رہا۔
جنگ میں جانے کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ پریس کلب کی ممبرشپ فوری ہوگئی۔رات کا کھانا کھانے ہم پریس کلب چلے جاتے جو قریب ہی تھا۔ یوں لوگ جاننا شروع ہوگئے۔ نیوز روم میں ایک اور مسئلہ میز کی دراز کا بھی تھا۔ دراصل چند ہی دراز تھے تو پرانے لوگوں نے ان پر قبضہ جما رکھا تھا۔جسے دراز مل جاتی وہ اپنی کچھ چیزیں وہاں رکھ کر لاک کر سکتا تھا۔ مجھے جنگ میں اپنے قیام کے دوران دراز نصیب نہیں ہوا۔ حد تو یہ ہے کہ انتظامیہ چند ایک دراز بنوا کر نہیں دے پائی کہ لوگ وہاں اپنی ضروری چیزیں رکھ کر لاک کر لیا کریں۔
کمال تو یہ بھی ہوا کہ ایک بار گروپ ایڈیٹر محمود شام آئے۔ انہوں نے نیوز روم سے خطاب کیا۔ مسائل پوچھے۔ دیگرچیزوں کے ساتھ کسی نے سوال کیا، شائد اسلم ملک نے یا شائد میں نے ہی کہہ دیا کہ نیوزروم میں اخبارات کی ایک اضافی فائل ہونی چاہیے تاکہ بیک وقت ایک سے زائد لوگ اسے پڑھ سکیں۔ محمود شام صاحب نے حامی بھر لی۔ افسوس کہ گروپ ایڈیٹر بھی یہ کام نہیں کرا سکا۔ میرے وہاں رہنے تک نیوز روم میں ایک ہی اخبارات کی فائل آتی تھی، دوسری نہ آسکی۔
یہ بات بھی نوٹ کی کہ ایڈیٹر نیوز کی سطح کے سینئر صحافی لکھنے پڑھنے اور کتاب کے مطالعہ کی شدید حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ نجانے کیوں ان کے خیال میں نیوز روم کے سب ایڈیٹر کو پرلے درجے کا جاہل اور صرف خبر بنانا ہی آنا چاہیے۔ مجھے یاد ہے کہ جنگ کے ایک بڑے معروف اور دبنگ قسم کے ایڈیٹر نیوز نیوز روم کی گول میز پر بیٹھ کر فرمانے لگے ، میرے خیال میں سب ایڈیٹر کو کتاب دشمن ہونا چاہیے ۔ یہ سنہری قول انہوں نے ایک سے زیادہ بار فرمایا۔ سن کر ہمیشہ حیرت ہوتی کہ ایک سینئر آدمی ایسی فضول اور جہالت آمیز بات کیسے کہہ سکتا ہے؟ گجرانوالہ کے وہ ایڈیٹر نیوز شائد سنجیدگی سے اس پر یقین کرتے تھے۔ ممکن ہے ان کا خیال ہو کہ اگر سب ایڈیٹر نیوز کتابوں کے چکر میں پڑ گیا تو اس کا پروفیشنل معیار متاثر ہوگا۔ یہ مگر ایک پوچ اور بیکار بات ہے۔
ایک اور دلچسپ بات دیکھی کہ اکثر رپورٹر اور سب ایڈیٹر اپنا اخبار تک پڑھ کر نہیں آتے تھے۔ یعنی انہوں نے اس روز کا جنگ اخبار نہیں پڑھا ہوتا۔ جب پوچھا جاتا تو صاف کہہ دیتے کہ ہمارے پاس وقت نہیں ۔ میں حیرت سے پوچھتا کہ کیا ڈبل جاب کرتے ہو؟ جواب نفی میں ملتا۔ تب ہم سوچتے کہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی ہے، گھر میں اخبار لگا ہوا ہے ، اسے پڑھنے میں کتنا وقت لگے گا؟ بمشکل آدھا گھنٹہ۔ پھر بھی وہ نہ پڑھتے۔
اسی بات پر تاثیر مصطفیٰ نے ایک بار اسلام آباد کے مشہور صحافی سعود ساحر کا چبھتا ہوا فقرہ با آواز بلند سنایا کہ کسی کمرے کی چھت کے نیچے اتنے جاہل کہیں اکھٹے نہیں ہوں گے جتنے اخبار کے نیوز روم میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ کاٹ دار طنز بھی ہمارے دور کے کئی سب ایڈیٹرز اور رپورٹرز کا کچھ نہیں بگاڑ پایا۔ اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی تھے، ایسے جو نہایت باریک بینی سے اخبار پڑھتے اور اپنے آپ کو آپ ڈیٹ رکھتے۔ اسلم ملک کی مثال میں نے پیش کی ہے، اکا دکا مثالیں اور بھی تھیں۔
جنگ اخبار میں باقاعدہ میڈیکل موجود تھا بلکہ وہاں ایک ڈاکٹر تھا جس کے ہسپتال سے علاج کے علاوہ ادویات بھی مل سکتی تھیں۔ ہم پانچ سب ایڈیٹرز کو تین سال تک میڈیکل کی سہولت نہ مل سکی، ہر بار وعدے وعید ہی مل جاتے ۔ جب ہم جنگ چھوڑ کر جا رہے تھے تب آدم جی انشورنس کی ہیلتھ انشورنس کی آفر کی گئی ، ہم تین (میں، غلام محی الدین اور عقاب صحرائی )تو تین حرف بھیج کر چلے آئے ، باقیوں نے شائد لے لی ہوگی۔
ایک اور پریشان کن معاملہ پینک (panic)کا تھا۔ جنگ میں ہر دو تین ماہ بعد یہ خبر اڑتی کہ سو بندے نکالے جا رہے ہیں۔ لسٹیں بن رہی ہیں ، تیس لوگ جنگ لاہور سے ، اتنے جنگ پنڈی، اتنے جنگ کراچی سے وغیرہ وغیرہ۔ یہ افواہیں دانستہ اڑائی جاتی تھیں تاکہ لوگ تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ نہ کر دیں۔ یونین کے نام پر ایک پاکٹ یونین تھی، ملی بھگت والی۔ اپنے ہی ایک دو بندوں کو یونین کا عہدے دار بنا رکھا تھا۔ وہی موصوف یہ افواہیں اڑاتے۔ ہم نئے سب ایڈیٹر پریشان ہوجاتے کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جو سب سے آخر میں آئے ہیں، وہ سب سے پہلے نکالے جائیں گے۔
ہر تین چار ماہ بعد رب شدت سے یاد آتا، نفلیں پڑھتے، بزرگوں کے پاس دعائیں کرانے جاتے کہ نوکری بچی رہے۔ جنگ انتظامیہ والے نیک بخت اپنی چالاکیوں اور مکاریوں سے ورکرز کو ڈرائے تو رکھتے مگر اس سے بددلی بڑھتی اور ادارے سے شکایات اور بیزاری میں اضافہ ہوتا رہتا۔
ایک بار تو ایسی شدت سے افواہ اڑی کہ کئی دنوں تک پریشان رہا۔ یوں لگے جیسے اچانک کسی بھی دن دفتر سے نکالے جانے کا لیٹر ریسپشن پر ہی مل جائے گا۔ اکبر عالم صاحب کے ایک بھائی صوفی منش آدمی تھے، سائیں اختر شائد نام تھا۔ ان کا بیٹا مقصود فریدی ہمارے ساتھ نیوز روم میں تھا۔ ایک اور بیٹا طالب فریدی رپورٹر تھا۔ مشہور تھا کہ سائیں اختر صاحب کشف ہیں اور بہت سے لوگ جن میں سیاستدان بھی شامل تھے، ان سے ملنے آیا کرتے ہیں۔ مقصود فریدی کے توسط سے ان سے ٹائم لیا اور گھر پہنچ گیا۔ خاموش سے بھلے مانس اور خلیق آدمی تھے۔ تپاک سے ملے۔ میں نے اپنا مسئلہ بتایا۔ چند لمحے تک خاموش رہے، ہاتھ میں تسبیح تھی، وہ پڑھتے رہے، پھر بولے کہ آپ فکر نہ کریں، ان شااللہ بے روزگاری نہیں دیکھنا پڑے گی۔ جلد ہی یہاں سے کسی اور اخبار میں چلے جائیں گے، حالات بہتر ہوں گے۔ ان کی بات سے تسلی ہوئی۔ چپ کر کے واپس آگیا۔ اللہ نے ان کی زبان مبارک کی اور ویسا ہی ہوا۔ چند ماہ بعد میں جنگ کو چھوڑ کر روزنامہ ایکسپرس میں بطور میگزین انچارج چلا گیا۔
جنگ میں کام کرنے کا تجربہ پروفیشنلی طور پر اچھا رہا۔سیکھنے کا موقعہ ملا۔ بڑے ادارے کی اپنی روایات ہوتی ہیں، وہاں سینئر اور بڑے لوگ کام کر چکے ہوتے ہیں، بعد میں آنے والے ویسے نہ ہوں تب بھی معیار کسی نہ کسی حد تک برقرار ہی رہتا ہے۔ جن لوگوں نے جنگ اور نوائے وقت جیسے اخبارات یا ڈان میں کام کیا ہے، وہ اسے زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں خبریں، پاکستان اور دیگر چھوٹے اخبارات میں کام کرنے والوں کو وہ تجربہ ، اعتماد حاصل نہیں ہوسکتا جو جنگ ، نوائے وقت کے سب ایڈیٹرز اور رپورٹرز کو ایک زمانے میں حاصل تھا۔
مجھے اردو ڈائجسٹ میں ایڈیٹنگ اور زبان وبیان کا اچھا خاصا تجربہ تھا۔ جنگ والوں نے پہلے تو میری اصلاح زبان کی، یعنی جو کچھ سیکھا تھا، اسے تہس نہس کر دیا ۔ ہم اردو ڈائجسٹ میں کراچی سٹائل کے مطابق سکول کو اسکول، ہسپتال کو اسپتال لکھا کرتے تھے۔ چیخ وپکار کو چیخ پکار، خط وکتابت کو خط کتابت، ناراضگی کو ناراضی لکھتے کہ یہ فصیح ہے۔ ہم جمع الجمع نہ بناتے ۔ دیہات سے دیہاتوں نہ بناتے، اکابر کو اکابرین نہ کرتے ۔ اسی طرح ناطہ کی جگہ ناتا لکھتے وغیرہ وغیرہ۔ جنگ کے کولیگز اور سینئرز نے سختی سے روکا اور ٹوکا کہ نہیں یہ تو کراچی کی صحافت ہے، ہم پنجاب والے الف نہیں لگایا کرتے اور یہ جمع الجمع نہ بنانا کیا بلا ہے ؟ ناطہ ، دیہاتوں، اکابرین ہی لکھا کرو، ناراضگی ہی ٹھیک ہے ناراضی کیا فضول بات ہےوغیرہ وغیرہ۔
چلیں جی معاملہ ہمیشہ کے لئے کلئیر ہوگیا۔ ہم نے امریکا کے بجائے امریکہ لکھنا شروع کیا اور آج تک اس پر قائم ہیں۔ ہمارے محترم شکیل عادل زادہ اور دیگر ماہرین جو مرضی کہیں، ہم اپنے ڈھب سے ہی لکھتے رہے ہیں۔
میرا خیال تھا کہ میں بہت اچھی خبر ایڈٹ کر لوں گا، مگر اندازہ ہوا کہ نہیں جنگ کی ایڈیٹنگ زیادہ سخت ہے۔ اندازہ ہوا کہ اصل ایڈیٹنگ تو اب کرنا پڑ رہی ہے۔ دراصل وہاں جگہ کم تھی تو ہر جملے میں سے بھی کئی لفظ ایڈٹ کر دئیے جاتے تھے۔ فل سٹاپ کا اخبارات میں رواج ہی نہیں تھا، کامہ ڈال کر فقرے جوڑتے جائیں، اس نے کہا، مزید کہا، یہ بھی کہا، دریں اثنا وغیرہ ۔
جنگ میں ایک اور اچھی بات سیکھی کہ خبر کو بیلنس کیسے کیا جائے۔ہدایت تھی کہ دوسرا رخ بھی سامنے آئے، اس لئے جس کے خلاف خبر ہو، اس کا موقف دینا لازمی تھا۔ رپورٹر حضرات اکثر چالاکی کرتے اور یک طرفہ خبر بنا کر فائل کر دیتے۔ نیوز ایڈیٹر تک جانے سے قبل ہی عام سب ایڈیٹر بھی اس خبر کو روک لیتا اور رپورٹنگ میں فون کر کے رپورٹر سے کہتا کہ دوسرا ورشن یعنی موقف بھی شامل کرو۔ حکومت کے خلاف خبر ہے تو بتائو کہ حکومتی وزیر یا سیکرٹری کا موقف کیا ہے ۔ یہ اچھی پروفیشنل اپروچ تھی۔ خبریں اور بعض دیگر اخبارات کی بلیک میلنگ ٹائپ خبروں اور سکینڈلز کی وجہ بھی یک طرفہ خبر بنانا ہے۔ جنگ میں ایسی خبر تب آسانی سے نہیں لگ سکتی تھی۔ نوائے وقت کا بھی یہی معاملہ ہوگا، اگرچہ میں اس اخبار کا اس طرح قاری رہا نہ کبھی مداح بنا۔
یہ بھی دیکھا کہ بڑے بڑے مشہور رپورٹر کیسی فضول اور بیکار خبر بناتے ہیں۔ سب ایڈیٹرز کو پھر سے وہ خبر بنانا پڑتی۔ رپورٹروں سے لڑائی چلتی رہتی ، انہیں نیوز روم میں بلا کر خوب سنائی جاتیں۔ یہ اور بات کہ رپورٹر ہمیشہ ویسے ہی خبر فائل کرتا۔ مجھے یاد ہے کہ جنگ کے تب دو کرائم رپورٹرز تھے، دونوں کی کم وبیش سو خبریں میں نے ایڈٹ کیں اور زوائد جملے نکال پھینکے، وہ ہر روز مگر وہی غلطی کرتے۔ شائد انہوں نے کبھی اپنی خبریں ایڈٹ ہونے کے بعد پڑھی ہی نہیں تھیں یا پھر وہ اپنے اندر اصلاح لانے کے قائل ہی نہیں تھے، یہ زحمت ہی نہیں کرنا چاہتے تھے۔
میں نے مختلف اخبارات میں دیکھا کہ نیوز روم کے سب ایڈیٹرز اور رپورٹروں کے درمیان ہمیشہ مخاصمت کی فضا رہی ہے۔ دراصل سب ایڈیٹرز کو یہ شکوہ بھی ہوتا کہ محنت ہم کرتے ہیں، خبر چمکاتے ، تراش خراش کر پڑھنے کے قابل بناتے ہیں اور کریڈٹ رپورٹر لے جاتا ہے۔ رپورٹرز اس پر نازاں ہوتے کہ ہم خبر لائے تو ہیں، یہ ہمارا کمال ہے، اس کے عوض ہمارے سب گناہ بخش دینے چاہئیں۔ نیوز روم میں کام کرنے کا ویسے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ نیوز سینس بہت بہتر ہوجاتی ہے۔
جنگ کے ابتدائی برسوں میں سنا تھا کہ رپورٹروں کو چند ماہ نیوز روم میں کام کرایا جاتا تاکہ وہ خبر بنانا سیکھ سکیں اور انہیں یہ بھی پتہ چل جائے کہ نیوز روم کی ڈیمانڈز کیا ہیں۔ یہ بہت اچھا طریقہ تھا، افسوس کہ ہمارے زمانے میں بھی ختم ہوگیا، اب تو خیر اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ویسے تو جنگ لاہور کے ابتدائی برسوں میں میر شکیل الرحمن نے صحافیوں کو مختلف شعبوں میں بھیجنے کا تجربہ بھی کیا تھا۔ چند ماہ رپورٹنگ، چند ماہ نیوز روم، پھر میگزین وغیرہ میں کام کرنا۔ اس سے صحافیوں کو متنوع تجربات حاصل ہوتے اور ان کی مہارت بھی بڑھ جاتی۔ یہ کرتے رہنا چاہیے تھا، افسوس کہ ضیا شاہد جیسے تجربہ کار پروفیشنل صحافیوں نے جب اخبار نکالے تو تمام تر فوکس بلیک میلنگ اور ایکسپلائٹیشن پر دیا، کارکنوں کی تربیت نہیں کی۔ (جاری ہے )