بھارت کی ریاست کرناٹک میں ایک 37 سالہ خاتون، بسوراجیشوری یارنال، ہاتھ میں ہیئر ڈرائر پھٹنے کے باعث شدید زخمی ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق، یہ ہیئر ڈرائر ایک پارسل کا حصہ تھا جو متاثرہ خاتون نے اپنی پڑوسی، ششی کلا، کی ہدایت پر وصول کیا تھا۔ ششی کلا نے یارنال سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں پارسل وصول کریں اور اسے کھول کر دیکھیں۔
جب یارنال نے ہیئر ڈرائر کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو وہ دھماکے سے پھٹ گیا، جس سے ان کی انگلیوں اور ہتھیلیوں پر شدید زخم آئے۔ متاثرہ خاتون مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور انہیں ڈاکٹروں نے سنگین چوٹوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ بگل کوٹ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، امرناتھ ریڈی، نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے کی وجہ شارٹ سرکٹ تھی۔ تاہم، واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں متاثرہ اور پڑوسی کے درمیان کسی ممکنہ تنازعے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ششی کلا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی کوئی ہیئر ڈرائر آرڈر نہیں کیا تھا۔ اس انکشاف نے پارسل کے اصل پتے اور سازش کے امکانات کے حوالے سے شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
متاثرہ خاتون ایک سابق فوجی اہلکار کی بیوہ ہیں۔ پولیس نے ان کے گھر پر تحقیقات کے لیے ٹیم روانہ کی ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہیئر ڈرائر وشاکھاپٹنم کی فرم سے بگل کوٹ تک کیسے پہنچا۔ پولیس تمام ممکنہ پہلوؤں بشمول دشمنی یا سازش کا جائزہ لے رہی ہے۔
ششی کلا نے واقعے میں کسی قسم کی شمولیت سے انکار کیا ہے۔ حکام اب پارسل کے پسِ منظر اور اس مشین کے ترسیلی راستے کی مزید جانچ کر رہے ہیں۔