ایران کی بااثر مجلسِ خبرگان رہبر نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای اپنے مرحوم والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ سنبھالیں گے، جنہیں 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشرکہ حملوں میں شہید کر دیا گیا تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، مجلسِ خبرگان رہبر نے اتوار کے روز اجلاس کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے مذہبی عالم ہیں اور انہیں طویل عرصے سے ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے بعض حلقوں کی جانب سے ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا تھا۔
اگرچہ ایران کے اسلامی انقلابی نظام میں موروثی قیادت کے تصور کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کو مبینہ طور پر طاقتور سکیورٹی اداروں،باالخصوص آئی آر جی سی کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ان کے والد کے دفتر اور اس سے وابستہ بااثر حلقے بھی انہیں سپورٹ کرتے رہے ہیں۔
مجلسِ خبرگان رہبر کے رکن آیت اللہ محسن حیدری نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ نئے رہنما کا انتخاب اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا جس کے تحت ایران کا سپریم لیڈر ایسا ہونا چاہیے جس سے دشمن ناراض ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے بھی اس شخصیت کا نام لیا ہے، جس کا اشارہ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب تھا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کا سپریم لیڈر بننا ان کے نزدیک قابل قبول نہیں ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے دور میں آہستہ آہستہ خاصا اثر و رسوخ حاصل کیا۔ انہیں سکیورٹی اداروں کے قریب سمجھا جاتا ہے اور وہ ان وسیع معاشی نیٹ ورکس سے بھی منسلک رہے ہیں جن پر سکیورٹی اداروں کا اثر ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق، وہ طویل عرصے تک اپنے والد کے قریبی مشیر اور دربان کے طور پر پسِ منظر میں اہم کردار ادا کرتے رہےہیں۔مجتبیٰ خامنہ ای اصلاح پسند سیاسی دھڑوں کے ناقد سمجھے جاتے ہیں اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر مغربی ممالک سے مفاہمت کے حامی حلقوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای 1969 میں ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش اس دور میں ہوئی جب ان کے والد شاہِ ایران کے خلاف سیاسی تحریک میں سرگرم تھے۔ جوانی میں انہوں نے ایران-عراق جنگ کے دوران خدمات بھی انجام دیں۔
انہوں نے مذہبی تعلیم ایران کے شہر قم کے دینی مدارس میں حاصل کی، جو ملک میں مذہبی تعلیم کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ مذہبی لحاظ سے ان کا درجہ ‘حجۃ الاسلام’ بتایا جاتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے اب تک ایران کی اسلامی جمہوریہ کی حکومت میں کوئی باضابطہ سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔ وہ اکثر حکومتی حامی اجتماعات میں نظر آئے ہیں، تاہم عوامی سطح پر تقاریر یا میڈیا سے بہت دور رہے ہیں۔