وینزویلا کی اپوزیشن رہنما نوبیل انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو نے اپنے ملک میں امریکی کارروائی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں ماچاڈو نے وینزویلا کے عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون کی بالادستی کے لیے ان کے سخت مؤقف اور عزم پر شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی آزادی اب قریب ہے اور عوام جلد ہی اس لمحے کا جشن منائیں گے۔
بعد ازاں فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ماچاڈو نے کہا کہ نکولس مادورو نے ریاستی نظام اور الیکشن کونسل پر مکمل کنٹرول حاصل کر رکھا تھا، جس کے باعث ملک میں آزاد اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناممکن ہو چکا تھا۔ تاہم ان کے بقول، اس کے باوجود اپوزیشن نے انہیں بھاری اکثریت سے شکست دی تھی۔
ماچاڈو نے اس موقع پر کہا کہ ان کے نزدیک صدر ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل امن انعام کے اصل حقدار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں امریکی صدر کے اقدامات نے دنیا کے سامنے ایک واضح پیغام دیا ہے، جو ان کے بقول انسانیت کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔
اپوزیشن رہنما نے ایک مرتبہ پھر ٹرمپ کے اقدامات پر گہرے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد وینزویلا واپس جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ماچاڈو کئی ماہ سے روپوش ہیں اور ان کے مطابق جب ملک واپسی غیر محفوظ تھی تو روپوش رہنے کی حکمتِ عملی زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا میں کم از کم 14 صحافیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ عبوری صدر رودریگیز پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا